خطبات محمود (جلد 16) — Page 351
خطبات محمود ۳۵۱ سال ۱۹۳۵ء سارے ہندوستان میں چکر لگاتی چلی جاتی ہے اس پر ریویو کرنے والے یہ اظہار کرتے چلے جاتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یقیناً فساد اور خون ریزی ہوگی مگر حکومت کا ہاتھ جسے اس کے ایک ذمہ دار افسر نے مفلوج قرار دیا ہے نہ جھوٹی خبر کی اشاعت کرنے والے کو روکتا ہے اور نہ حکومت دھمکیاں دینے والوں سے باز پرس کرتی ہے یہاں تک کہ احمدی جماعت کے ایک فرد پر قاتلانہ حملہ ہو جاتا ہے پھر حکومت کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ باتیں معمولی نہ تھیں۔میں کہوں گا کہ اس معاملہ میں حکومت سرحد نے حکومت پنجاب سے زیادہ دانشمندی اور انصاف کا ثبوت دیا ہے کیونکہ گو اس نے واقعہ سے پیشتر اس قسم کے خطرہ کو پوری طرح روکنے کی کوشش نہ کی یاممکن ہے اس نے اس قسم کی کوشش تو کی ہومگر ہمارے علم میں نہ آئی ہولیکن وقوعہ کے بعد جس تیزی کے ساتھ اس نے کام کیا ہے اور جس طرح احمد یہ جماعت کے افراد کی حفاظت کے لئے اس نے کوشش کی ہے وہ یقیناً اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ صوبہ سرحد کے انگریز حکام اس نیک نام کے قائم رکھنے کے لئے ضرور کوشاں ہیں جو برطانیہ نے سینکڑوں سال کی قربانیوں کے بعد قائم کیا تھا یہ اور بات ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں یا ان کی کوششیں اتنا موثر نتیجه پیدا نہ کرسکیں جتنا وہ پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر مؤمن کسی کی خوبی کا اقرار کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔پس چونکہ جور پورٹیں مجھے پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ صوبہ سرحد کی حکومت نے خطرات کو روکنے کے لئے اپنی طرف سے پوری مستعدی سے کام لیا اس لئے میں اس کا شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں مگر پنجاب میں ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ایک شخص قادیان میں تقریر کرتا اور ہا لوضاحت جماعت احمد یہ اور جماعت کے امام کو دھمکیاں دیتا ہے اس کے بعد پے در پے دو شخص قادیان ایسے آتے ہیں جو جماعت کے امام پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ اور بات ہے کہ وہ حملہ سے پہلے پکڑے جاتے ہیں مگر پراسیکیوشن (PROSECUTION) کرنے والے بعض حکام کی طرف سے کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ثابت کیا جائے کہ ان واقعات کا کا نفرس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اشتعال انگیز تقریریں کی جاتی ہیں اور اس کے بعد چند ماہ کے عرصہ کے اندر اندر شورش اور مخالفت کے ایام میں ہی قاتلانہ حملہ کرنے کے ارادہ سے دو شخص کچھ کچھ وقفہ کے بعد قادیان آتے ہیں مگر مقدمہ کی پیروی کرنے والے بعض حکام کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ثابت کریں اس کا احراریوں کے جلسہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک اتفاقی بات ہے۔گویا اکتوبر کی احرار کا نفرنس کے بعد دو شخصوں کا بد ارادے کے ساتھ