خطبات محمود (جلد 16) — Page 348
خطبات محمود ۳۴۸ سال ۱۹۳۵ء ہر قسم کی قربانیاں چاہتا ہے یہ نہ سمجھو کہ انگریزی حکومت میں جانی قربانیوں کا امکان نہیں یہ کوئی قرآن کا حکم تو نہیں کہ تم ضرور انگریزی علاقے میں ہی بیٹھے رہو۔ایسے علاقے میں بھی جا سکتے ہو جہاں جان کا خطرہ ہو۔یہاں تو گو پولیس ہماری مخالف ہو پھر بھی اسے دخل دینا ہی پڑتا ہے لیکن کئی ایسے ممالک ہیں جہاں کوئی حکومت ہے ہی نہیں مثلاً آزاد سرحدی علاقہ ہے چین کے بعض حصے ہیں، امریکہ کے بعض حصے بھی ایسے ہیں ، خود یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ جو اتنی بڑی حکومت ہے وہاں بھی گورے لوگ حبشیوں کو غصہ میں آ کر مار ڈالتے ہیں ، شکاگو میں سینکڑوں ایسے واقعات ہو چکے ہیں تو دنیا میں ایسے ممالک ہیں جن میں اب بھی قانون کی حکومت نہیں ایسے ممالک میں جان کی قربانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔پس احمدیت جانی، مالی اور وقتی سب قسم کی قربانیوں کا مطالبہ کرتی ہے جب تک ہم انہیں ادا نہ کریں اور بغیر تحریک کے ادانہ کریں کامیابی نہیں ہو سکتی۔چاہئے کہ ہر شخص خود اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔چوتھی چیز دعا ہے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو بہت لوگ ہیں جو رسمی دعائیں کرتے ہیں جو ملے گا اسے کہہ دیں گے دعا کرنا مگر دعا کو معمولی چیز نہ سمجھو بلکہ یقین رکھو کہ جب ہمارے دل سے دعا نکلے گی تو زمین و آسمان کو ہلا دے گی۔جب تک یہ یقین نہ ہود عاد انہیں بلکہ بکواس ہے دعا محض منہ کے الفاظ یا دماغ کے خیالات نہیں بلکہ ایسی چیز ہے جس کے پیچھے یقین اور ایمان کے پہاڑ ہیں۔بچہ ماں سے سوال کرتا ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ ضرور پورا کر دے گی اور نہ بھی مانے گی تو میں منوا کر چھوڑوں گا۔اسی طرح وہی دعا قبول ہوتی ہے جس کے متعلق بندہ یقین رکھے کہ یہ ضرور سنی جائے گی اور میں اسے سنوا کر رہوں گا۔جب تک یہ چار باتیں تمہارے اندر پیدا نہ ہوں کا میابی محال ہے اور جب یہ پیدا ہو جائیں گی تو کوئی طاقت تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔پس اپنے جوشوں کو دباؤ ، محبت سے کام لو، فتنہ و فساد سے بچو اور ایمان وصداقت کے اس راستے پر قائم رہو جو رسول کریم ﷺ نے بتایا اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوبارہ آکر زندہ کیا ہے پھر دیکھو تمہاری کامیابی کے رستہ میں کوئی رُکاوٹ نہ ہوگی۔اس کے بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ الہامات جو آپ کی زندگی کے آخری ماہ جولائی میں ہوئے گو یا وفات سے نو ماہ قبل ، پڑھ کر سناتا ہوں ان الہامات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں کوئی خاص مصائب نہیں آئے جس سے ثابت ہے کہ یہ الہامات آئندہ زمانہ