خطبات محمود (جلد 16) — Page 336
خطبات محمود ۳۳۶ سال ۱۹۳۵ء ہزاروں موتیں ہو گئیں تو نہ صرف ہم خوش نہیں بلکہ ہم سے زیادہ رنجیدہ ان مصائب پر اور کوئی نہیں۔کیا ہمارا اپنے اموال صرف کرنا، لوگوں کو تبلیغ کرنا اور اپنی زندگیوں کو خدمت دین کے لئے وقف کرنا اس لئے نہیں کہ بغیر زلزلہ کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان جائیں پس ہماری خواہش تو یہی رہی کہ لوگ بغیر اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھے حق کی طرف رجوع کریں اور بغیر بہار اور کوئٹہ کے زلزلہ کے رونما ہونے کے وہ اس ماً مور کو پہچانیں جو ان کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا مگر یہ احراری تھے جو لوگوں سے کہتے رہے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس طرح وہ لوگوں کو ہماری باتیں سننے سے روکتے رہے پس یہ موتیں جو بہار اور کوئٹہ میں ہوئیں ہمارے ذمہ نہیں بلکہ ان کی ذمہ داری احرار یوں کے سر پر ہے جو کہتے ہیں کہ احمدی جھوٹ کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے مامور کو مفتری کہہ کر اسے قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں۔یہ اموات ان لوگوں کی گردنوں پر ہیں جو آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندے بنے پھرتے ہیں وہ قاتل ہیں ان لوگوں کے جو بہار میں مارے گئے ، وہ قاتل ہیں ان لوگوں کے جو کوئٹہ میں مارے گئے ، یہی لوگ وہ تھے جو دنیا سے کہتے رہے سوتے رہو،سوتے رہو، خدا تم پر ناراض نہیں۔یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے متعلق جب وہ بیان کی جاتیں کہا کہ یہ شیطان کی طرف سے آنے والا ہے اس کی باتیں پوری نہیں ہوں گی۔ان زلزلوں کے آنے سے ایک لمبا عرصہ پہلے خدا کے مامور نے پورے زور سے دنیا کو جگایا اور کہا بیدار اور ہوشیار ہو جاؤ کہ خدا کا عذاب تمہارے دروازے پر کھڑا ہے مگر یہ دشمن قوم اور دشمن دین و ایمان احراری لوگوں سے کہتے رہے سوتے رہو، سوتے رہو۔اگر لوگ خدا تعالیٰ کے ماً مور کی بات مان لیتے یا ہماری بات پر ہی کان دھرتے تو نہ یہ زلزلے آتے اور نہ اس قدر موتیں واقع ہوتیں۔لوگ کہتے ہیں انکار کرنے والے کوئی ہیں اور زلزلے کہیں آ رہے ہیں ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے قرآن کریم میں آتا ہے اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَالِبُونَ کے یعنی ہم ہمیشہ زمین کو اس کے کناروں سے چھوٹا کرتے آتے ہیں پس یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ کناروں سے آتا ہے اور اسی سنت کے مطابق ہندوستان کے کناروں سے یہ زلزلے شروع ہوئے ان زلزلوں سے جو ایسے لوگ مارے جاتے ہیں جو بالکل بے خبر ہوتے ہیں، خدا تعالیٰ اگلے جہان میں ان کی اس مصیبت کو ان کے گناہوں کا کفارہ کر دے گا اور جو کامل اتمام حجت