خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 305

خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۵ء شور مچا دیتے ہیں کہ پولیس کہاں ہے؟ کیوں انگریز ہماری مدد نہیں کرتے ؟ تختہ الٹنے کا دعویٰ کرنا اور پھر حکومت سے مدد بھی مانگنا یہ بالکل عجیب بات ہے جو تختہ الٹنے والے ہوں وہ اس طرح مدد نہیں مانگا کرتے بلکہ ان کو تو مدد دینے کے لئے اگر کوئی آئے تو بھی وہ کہہ دیتے ہیں کہ جاؤ ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت نہیں لیکن ایک طرف تو ان لوگوں کی یہ حالت ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے مقابل پر اتنے دلیر ہیں کہ اُس کے غضب سے بھی نہیں ڈرتے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اتنا خیال نہیں آتا کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اور اعمال پر جزا سزا مترتب ہوگی جو بات کرتے ہیں الٹی اور جو چال چلتے ہیں الٹی ہی چلتے ہیں۔ادھر ہمارے خلاف شورش ہے اور اس بات کو بالکل نہیں سمجھتے کہ مسلمانوں میں اختلاف بڑھ رہا ہے اور ان کی تباہی کے سامان جمع ہو رہے ہیں مسلمانوں میں سے تو کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی البتہ ہمارے صوبہ کے گورنر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور آپ نے انجمن حمایت اسلام کے جلسے پر تقریر کرتے ہوئے دردمندانہ نصیحت کی کہ لڑائی جھگڑے چھوڑ دو، ورنہ اپنی حالت کو کمزور کر لو گے ایک انگریز افسر کے منہ سے یہ فقرات سن کر ان لوگوں کو شرم آ جانی چاہئے تھی کہ غیر بھی ہماری خیر خواہی کرتے ہیں لیکن بجائے اس کے کہ یہ لوگ ان کی اس ہمدردی کی قدر کرتے جھٹ اعلان کر دیا کہ تم اپنا کام کرو تمہیں ان باتوں سے کیا واسطہ۔ہمیں تمہاری نصیحت کی ضرورت نہیں حالانکہ اگر دیکھا جائے تو گورنر صاحب کا اس میں کوئی فائدہ نہ تھا۔لوگ تو اعتراض کرتے ہیں کہ حکومت لڑانا چاہتی ہے اگر یہ بات صحیح ہوتی تو گورنر صاحب کو چاہئے تھا کہ کہتے خوب لڑو، اسی میں تمہارا فائدہ ہے مگر وہ یہ نصیحت کرتے ہیں کہ لڑنا اچھا نہیں مگر بجائے اس نصیحت سے فائدہ حاصل کرنے کے ان لوگوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ان کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھا تھا کسی نے از راہ ہمدردی کہا کہ سائے میں ہو جاؤ تو اُس نے جواب دیا کہ کیا دو گے؟ ہز ایکسی لنسی نے ان کی خیر خواہی کی لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کی بجاۓ سر ظفر علی جیسے اُٹھے اور باوجود یکہ ہائی کورٹ کے جج رہ چکے تھے ہز ایکسی لنسی کی اس دردمندانہ نصیحت کے جواب میں کہا کہ آپ اپنا کام کیجئے یہ فساد تو آپ کا ہی پیدا کردہ ہے اور حکومت ہی اسے بڑھا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو آئندہ کوئی نصیحت بھی نہ کرے۔کیا یہ ایسے لوگوں کی باتیں نہیں ہیں جن کی عقل ماری گئی ہو کہ نصیحت بھی برداشت نہیں کر سکتے خواہ وہ کتنے فائدہ