خطبات محمود (جلد 16) — Page 271
خطبات محمود ۲۷۱ سال ۱۹۳۵ء دوسرے کے چاقو مار دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا شور ہونے پر پولیس آئی اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا عدالت کے سامنے بھی ایک غلام کہے یہ میرا سر تھا، دوسرا کہے میرا سر تھا عدالت نے نہانے والے سے پوچھا تو وہ کہنے لگا حضور یہ تو بے سر تھے ان کی باتوں پر تو مجھے تعجب نہیں تعجب یہ ہے کہ آپ نے بھی سوال کر دیا حالانکہ سر نہ اس کا ہے نہ اُس کا سر تو میرا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مثال اس لئے دیا کرتے تھے کہ دنیا کے جھگڑے بیہودہ ہوتے ہیں میرا کیا اور تیرا کیا۔غلام کا تو کچھ بھی نہیں ہوتا وہ تو جب اپنے آپ کو کہتا ہے کہ میں عبد اللہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب اس کا کچھ نہیں سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہے ، اس کے بعد میرے تیرے کا سوال ہی کہاں باقی رہ سکتا ہے۔قرآن مجید پڑھ کر دیکھ لو اس میں رسول کریم ﷺ کا نام بھی عبداللہ رکھا گیا ہے جیسا کہ آتا ہے لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللهِ تو خدا تعالیٰ کا غلام ہوتے ہوئے ہماری کوئی چیز نہیں رہتی بلکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اسی لئے قرآن مجید نے بالوضاحت بتایا ہے کہ ہم نے مومنوں سے مال و جان لے لی دوست عزیز ، رشتہ دار سب جان کے ماتحت آتے ہیں اور باقی مملوکات مال کے ماتحت آتی ہیں اور یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جن کا انسان ما لک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہ دونوں چیزیں مؤمنوں سے لے لیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں یہ جھگڑے نہیں ہونے چاہئیں کہ یہ چیز میری ہے اور وہ اس کی۔تم اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے زور لگا ؤ اور چھوڑ دو ان باتوں کو کہ تم کہو فلاں پریذیڈنٹ کیوں بنا فلاں کیوں نہ بنا، فلاں سیکرٹری کیوں ہو ا فلاں کیوں نہ ہوا، یا جب تک فلاں شخص امام نہ بنے ہم فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے۔مجھے افسوس ہے کہ کئی دفعہ اس قسم کی شکایات پہنچ جاتی ہیں کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہم فلاں احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے حالانکہ میں نے یہ بات کہ کسی احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا مت چھوڑ واتنی دفعہ دہرائی ہے کہ میں سمجھتا ہوں اگر ایک طوطا میرے پاس ہوتا تو وہ بھی یہ ضرور سیکھ جاتا کہ اختلاف کی بناء پر کسی احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی کبھی نہیں چھوڑنی چاہئے۔پس تعجب کہ میاں مٹھو تو یہ سیکھ سکتا ہے مگر ابھی تک ہماری جماعت کے بعض میاں مٹھو ایسے ہیں جو اس بات کو ابھی تک نہیں سمجھے۔میں اس قسم کے لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تم نے اپنی ضد کو نہیں چھوڑ نا تو تم احمدی ہی کس لئے ہوئے تھے اگر احمدیت کے بعد بھی یہ لعنت کا طوق تمہارے گلے میں رہنا تھا تو تم معمولی اختلاف کی بناء پر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کر دیتے تو تم نے کیوں احمدیت