خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 237

خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۳۵ء ہو جاتا ہے۔سارے ہی تعریف کریں۔کیا چھوٹا سا کیڑا انسان کے نطفہ میں ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ظلمات میں سے گزارتا ہے جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وہ کئی ظلمات میں سے گزر کر کتنا خوبصورت بچہ لے نطفہ سے انسان کتنا گھن کھاتا ہے لیکن بچہ کو ماں باپ اور دوسرے رشتہ دار کتنا پیار کرتے ہیں سو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جماعت ظلمتوں سے گزرے تا اس کی اصلاح ہو جائے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ مختلف فتنوں سے گزرتے ہوئے بھی ہم کس طرح راستی پر قائم رہتے ہیں اور اپنے کام کو نہیں بھولتے اس وجہ سے فتنہ کے بعد فتنہ آتا ہے ایک حرکت احرار کی طرف سے ہو جاتی ہے وہ دیتی ہے اور دوست سمجھتے ہیں کہ نجات ہوگئی اور معاً ایک حرکت مقامی حکام کر دیتے ہیں اس کا اثر ا بھی ہوتا ہے کہ پھر احرار کی طرف سے دوسری حرکت ہو جاتی ہے گویا احرار اور مقامی حکام ایک ہی ٹیم کے دو ونگ ہیں ایک لیفٹ اور ایک رائٹ کبھی لیفٹ ونگ والے فٹ بال ہمارے گول کی طرف لاتے ہیں ہم انہیں روکتے ہیں تو وہ بال کو جھٹ پاس کر کے رائٹ ونگ والوں کی طرف پاس کر دیتے ہیں پھر وہ کوشش کرتے ہیں کہ گول ہو جائے اور ہم جب ان کے حملہ کو روکتے ہیں تو وہ ٹیم کے دوسرے حصہ کی طرف بال بھیج دیتے ہیں۔اس وقت ہماری حالت اس ٹیم کی ہے جو سار از ور گول کو بچانے میں خرچ کر رہی ہوتی ہے ہم جب ایک طرف کے حملہ کو روکتے ہیں تو دوسری طرف سے ہو جاتا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ احرار اور مقامی حکام ایک ہی ٹیم کے دوونگ ہیں۔جب ایک ونگ پر زور پڑتا ہے تو وہ بال کو دوسری طرف بھیج دیتے ہیں احرار تو احرار ہی ہیں ان کا کیا کہنا حکومت کے جو افراد ان کی ٹیم میں شامل ہیں ان پر اور بے شک نگران ہیں پنجاب کی حکومت ، ہندوستان کی حکومت اور پھر انگلستان میں حکومت ہے۔جب ان کی طرف سے کوئی حرکت ہوتی ہے تو دوستوں کی نگاہ قدرتی طور پر بالا افسروں کی طرف اُٹھتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ احرار کو تو کوئی روکنے والا نہیں۔حکام ضلع گورداسپور جو کارروائیاں کرتے ہیں ان پر حکومت پنجاب ضرور ایکشن لے گی اور اس لئے ان کی طرف سے کسی ایسی حرکت پر ساری جماعت کی نگاہیں لاہور کی طرف اٹھتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اوپر اور افسر ہیں ان کو ہم سے کوئی ضد نہیں اس لئے وہ ضرور انصاف کریں گے لیکن جسے یہ خلاف آئین حرکت سمجھتے تھے جب اس کی گونج لاہور پہنچتی ہے اور وہاں سے بھی کوئی حرکت نہیں ہوتی تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ ساری گورنمنٹ ہی ہمارے خلاف ہے مگر