خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 238

خطبات محمود ۲۳۸ سال ۱۹۳۵ء اس خیال سے پھر انہیں تسلی ہو جاتی ہے کہ ممکن ہے معاملہ ان پر واضح نہ ہوا ہو اور ان کو معاملات غلط پہنچائے گئے ہوں اس خیال سے پھر ان کے دل میں امید پیدا ہو جاتی ہے کہ پھر جب حق کھلے گا تو وہ ضرور دخل دیں گے یہاں تک کہ پھر ایک نیا واقعہ ہوتا ہے اور ان کی نگاہیں پھر لاہور کی طرف اُٹھتی ہیں مگر پھر صدائے برنخواست والا معاملہ ہوتا ہے جیسا کہ گذشتہ چھ ماہ کے واقعات میں سوائے ایک اس نوٹس کے جو مجھے دیا گیا تھا ہوتا رہا ہے کسی ایک معاملہ میں بھی حکومت پنجاب نے ہمارے علم میں کوئی کا روائی نہیں کی۔ممکن ہے کوئی دخل دیا گیا ہومگر ہمارے علم میں نہیں اس وجہ سے قدرتی طور پر جماعت میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید اوپر کے افسر بھی ہمارے مخالف ہیں یا انہیں دھوکا دیا گیا ہے یہ تو ہم نہیں مان سکتے کہ وہ عملاً ایسا کر رہے ہوں کیونکہ انگریز افسروں کو احرار اور احمدیوں کے جھگڑوں سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ہندوستانی افسروں کو تو مذہبی طور پر یا قومی طور پر یا دوستوں کے لحاظ کی وجہ سے کسی کی رعایت ہو سکتی ہے مگر انگریزوں کے متعلق اس کے سوائے کچھ نہیں سمجھا جا سکتا کہ انہیں دھوکا دیا گیا ہومگر ان کی طرف سے خاموشی کی وجہ سے قدرتی طور پر جماعت کے دوست پریشان ہوتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ممکن ہے بعض طبائع میں غصہ بھی پیدا ہوتا ہو اور ان خطوط سے جو مجھے چاروں طرف سے موصول ہوتے رہتے ہیں میں سمجھتا ہوں بعض طبائع میں غصہ پیدا ہوتا ہے مگر پھر جب عقل کہتی ہے کہ انگریز افسروں کو ان جھگڑوں سے کیا واسطہ ہوسکتا ہے اور ان کا کیا دخل ہو سکتا ہے تو پھر خیال آ جاتا ہے کہ اب کوئی موقع ہوا تو پھر دیکھیں گے یہ ایک لمبا سلسلہ چلا جا رہا ہے اور اس بات کا محتاج ہے کہ اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دوں۔مگر پیشتر اس کے کہ میں ایسا کروں میں ایک تازہ واقعہ کا اظہار کرتا ہوں جو پچھلے تمام حالات اور واقعات سے بہت زیادہ سنگین اور بہت زیادہ خطرناک ہے یہاں کے چند طلباء نے مل کر ایک سوسائٹی مذہبی تقریروں کی مشق کے لئے بنائی ہوئی ہے میں نے اس کے کاغذات منگوا کر دیکھے ہیں وہ ہمیشہ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وفات مسیح علیہ السلام پر تقریریں کرتے ہیں باقی اس کے ا وہ نظم یا کبھی کوئی چٹکلہ ہو گیا تو ہو گیا ور نہ تقریر میں سب انہی دو موضوع پر ہوتی ہیں۔یہ مجلس کئی ماہ سے قائم ہے اور اس کی کئی میٹنگیں ہو چکی ہیں اس کے تمام ممبر طالب علم ہیں جو ۱۰ سے ۱۸ سال تک کی عمر کے ہیں۔کل ممبر ۲۷ ہیں مولوی غلام احمد متعلم جامعہ احمدیہ اس کے صدر ہیں اور اس کے ممبروں کی علاوہ