خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 218

خطبات محمود ۲۱۸ سال ۱۹۳۵ء کہ مرکز مخل اسلام کی آبیاری کرنی ہے۔دوسروں کا خون نہیں بہانا بلکہ اپنی گردنیں ان کی تلواروں کے نیچے رکھ دینی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ دو قسم کی قربانی چاہا کرتا ہے یا تو اس طرح کہ تلوار لوخود مر جاؤ یا دشمن کو ماردو اور یا پھر اس طرح کہ تلوار چھوڑ دو اور دشمن کے پاس چلے جاؤ اگر وہ تمہیں مار دے تو بے شک مرجاؤ نہیں تو وہ تمہارا بھائی بن جائے گا۔آج اللہ تعالیٰ ہم سے اس قسم کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے کہ مر جاؤ ، رعایا ہو کر حاکموں کے دل فتح کرو۔اللہ تعالیٰ کے تمام کام اپنے اندر حکمت رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں مغل قوم کو اشاعت اسلام کے لئے اسی واسطے چُنا ہے کہ اسلام پر تلوار کے زور سے اشاعت کا جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ دور ہو۔ہو۔مغل ہی ہیں جنہوں نے بغداد سے اسلامی خلافت کو مٹا دیا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس سے زیادہ مصیبت اسلام پر اور کوئی نہیں آئی ، اٹھارہ لاکھ مسلمان چند دنوں میں بغداد اور اس کے نواحی علاقہ میں قتل کر دیئے گئے۔مسلمانوں کے لئے سوائے افریقہ اور سپین کے کوئی ایسی جگہ نہ تھی کہ جہاں وہ پناہ لے سکتے۔سب خیال کر رہے تھے کہ کفر اسلام پر پھر غالب آ گیا لیکن اللہ تعالیٰ دکھانا چاہتا تھا کہ بادشاہ ہو کر بھی وہ اسلام میں داخل ہو نگے چنانچہ وہی قوم تیسری پشت میں مسلمان ہوگئی ، یہ پہلا ثبوت تھا اس بات کا کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا۔اب پھر اللہ تعالیٰ نے مغلوں میں سے ہی ایک شخص کو چُنا ہے اور تلوار چھین کر دلائل کے ذریعے اسلام کی اشاعت کا کام اس کے سپرد کیا ہے۔پس ہمارے لئے تو پ، بندوق یا تلوار کا خیال کرنا بھی ناممکن ہے اگر ہم ایسا کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنے مقصود پیدائش کو باطل کرتے ہیں کیونکہ ہماری پیدائش کی بناء یہی ہے کہ ہم نے اسلام کو دلائل سے غالب کرنا ہے اور اگر ہم جبر سے کام لیں تو ان پیشگوئیوں کو خود ہی غلط ثابت کریں گے پس سچ یہی ہے کہ ہمیں حکومت اُسی وقت ملے گی جب جماعت مضبوط طور پر قائم ہو جائے گی تا یہ پوری طرح ثابت ہو جائے کہ ہم نے اسلام کو دلائل سے منوالیا ہے۔ابھی تو ہر شخص ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے جس کو کوئی کام بھی کرنے اور دنیا میں کوئی اہمیت حاصل کرنے کا خیال ہو وہ للچائی ہوئی نظروں سے ہماری طرف دیکھتا ہے۔عیسائیوں کو زور آزمائی کا شوق ہوتا ہے تو ہماری طرف متوجہ ہو جاتے ہیں ، آریوں کو گالیاں دینے کا شوق چراتا ہے، مسلمانوں کو نہیں مارخانی کا اظہار کرنا ہوتا ہے تو ہماری طرف ہی رُخ کرتے ہیں حکومت کے افسروں کو اپنی حکومت دکھانے کا شوق ہوتا ہے