خطبات محمود (جلد 16) — Page 164
خطبات محمود ۱۶۴ سال ۱۹۳۵ء جہاں بیماری دیکھتے ہیں وہاں نسخہ تجویز کرتے ہیں۔ہمارے ہاں حکیم طبیب کو کہتے ہیں لیکن عربی میں وکیل کو بھی کہہ سکتے ہیں اور تاجر کو بھی۔غرض ہر ما ہر فن کو جو اپنے فن کی تمام جزئیات کو مد نظر رکھتے ہوئے مناسب موقع کام کرے۔ماہر فن طبیب بھی حکیم کہلا سکتا ہے ایسا شخص جب بیماری دیکھتا ہے تو اس کا علاج بھی کرتا ہے اور مفاسد کی اصلاح کرنا ضروری سمجھتا ہے۔اگر کوئی بیمار آئے اور حکیم کہہ دے کہ کوئی بات نہیں جاؤ کھاؤ پیو تو وہ اسے مارنے والا ہو گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم حکیم ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم خرابی دیکھیں اور اصلاح نہ کریں۔کس قدر عجیب بات ہے کہ آج مسلمان یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمان بگڑ سکتے ہیں اور بگڑ چکے ہیں مگر وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ کوئی مصلح بھی آسکتا ہے۔اگر ان کا یہ دعوئی ہوتا کہ رسول کریم عملے کے بعد مسلمانوں میں خرابی پیدا ہو ہی نہیں سکتی تو یہ ایک بات تھی لیکن وہ کہتے تو یہ ہیں کہ مسلمان بگڑ گئے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ دعوی کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ہے کے بعد ان کے بگاڑ کا کوئی علاج اب نہیں ہوسکتا۔بیماری تو ہے مگر صحت کے سامان مفقود ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم حکیم ہیں یہ ہو نہیں سکتا کہ بیماری ہو اور ہم علاج نہ کریں۔اس کے بعد فرمایاڈلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ یہ کوئی معمولی فضل نہیں بلکہ صحابہ کی پہلی یا دوسری جماعت میں شامل ہونا اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے ، جسے چاہے دے دے۔محمد ﷺ اور آپ کے بروز کے زمانہ میں پیدا ہونا اور پھر ان کے ساتھ شامل ہونا اپنے کسی زور اور طاقت سے نہیں ہو سکتا بلکہ فضل سے ہی ہو سکتا ہے۔دیکھو اس وقت بھی دنیا کے کتنے بڑے بڑے عالم کہلانے والے ہیں مگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کومحمد رسول اللہ ﷺ کا بروز سمجھنے کے بجائے نَعُوذُ بِاللهِ دجال اور کیا کیا کہہ رہے ہیں اس کے مقابلہ میں تم میں سے کتنے جاہل کہلانے والے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس فضل سے حصہ پانے کی توفیق عطا کر دی۔پُرانے زمانوں میں لوگ فلسفہ، منطق ، احادیث اور تفاسیر اور کیا کیا علوم پڑھتے تھے اور پھر صوفی بنتے تھے اور روحانی علوم سیکھتے تھے مگر آج وہ لوگ روحانی علوم رکھتے ہیں جو بظاہر بالکل جاہل ہیں۔لوگ جاہل کہے جانے پر ناراض ہوتے ہیں مگر میں تو خوش ہوتا ہوں کیونکہ جب وہ مجھے جاہل کہتے ہیں تو گویا اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کا ہتھیار ہوں اور جب اس نے دین کی خدمت کا مجھے موقع دیا تو یہ اس کا فضل ہے۔اگر میں ان پڑھ ہونے کے باوجود علم کی باتیں بیان کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے مجھے چن لیا اور مجھے جاہل کہہ کر