خطبات محمود (جلد 16) — Page 160
خطبات محمود 17۔سال ۱۹۳۵ء ہے، اپنے مال و دولت سے حاجت مندوں کی حوائج پوری کرتا ہے ، ہمیشہ سچ بولتا ہے، جھوٹ سے پر ہیز کرتا ہے، چوری، ڈاکہ، فساد، خون ریزی، بغاوت سے مجتنب رہتا ہے ایسے انسان کے متعلق اگر کسی ایسے مسلمان کے سامنے جو ساری صداقت کو اسلام میں ہی سمجھتا ہے سوال کیا جائے کہ اس ہند و کو تم کس طرح گمراہ کہتے ہو تو اس کے لئے اس کی گمراہی کا ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح عیسائیوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ، تو حید کے قائل ہیں ، دنیا کے آرام کے لئے خود تکلیف اُٹھاتے ہیں، ایسے ایسے جنگلی علاقوں میں پہنچ کر جہاں کے رہنے والے دوائی کا نام نہیں جانتے ، لوگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مردم خوروں میں جا پہنچتے ہیں ایک کو وہ کھا لیتے ہیں تو دوسرا سامنے آجاتا ہے، ان کے متعلق اگر سوال کیا جائے کہ ان کے متعلق تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ گمراہ ہیں تو ان کی گمراہی کو ثابت کرنا مشکل ہو گا کیونکہ ان میں بہت سی ہدایت کی باتیں ہوتی ہیں اس لئے تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔جب نور اور ظلمت ملے ہوئے ہوں تو ان میں امتیاز کرنے میں غلطی لگ سکتی ہے۔شام کے وقت جب سورج غروب ہو چکا ہو اگر دریافت کیا جائے کہ اس وقت اندھیرا ہے یا روشنی ، تو کئی لوگ کہہ دیں گے اندھیرا ہے اور کئی روشنی بتا ئیں گے۔اسی طرح صبح جب پو پھوٹ چکی ہو لیکن سورج ابھی نہ نکلا ہو تو کئی کہہ دیں گے دن چڑھ گیا ہے اور کئی کہیں گے ابھی نہیں چڑھا کیونکہ اُس وقت امتیاز مشکل ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مکہ کے لوگوں کی گمراہی مشتیہ نہ تھی یہ نہیں کہ ان کے اعمال میں خرابی تھی لیکن عقائد درست تھے یا عقائد میں خرابی تھی مگر اعمال درست تھے یا بعض عقا ئدا چھے اور بعض خراب تھے اور اسی طرح بعض اعمال اچھے اور بعض خراب تھے بلکہ ان کی گمراہی اس قدر گھلی ہوئی تھی کہ ہر دیکھنے والا یہی خیال کرتا تھا کہ یہ کبھی راستی پر نہیں آ سکتے مگر رسول کریم ﷺ نے جب ان کو ہاتھ لگایا تو وہ پیتل سے سونا بن گئے جس طرح کیمیا گر پیتل کو سونے میں تبدیل کر دیتا ہے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ نے جب ان کو ہاتھ میں لیا تو وہ چمکتا ہو اسونا بن گئے اور ہر سُنا ر نے کہا کہ یہ خالص سونا ہے۔یورپ والوں نے تاریخیں لکھی ہیں اور تسلیم کیا ہے کہ ان کی حالت بالکل بدل گئی تھی ، ( نوٹ : حضور نے وضاحت فرمائی کہ ” میں تو پیتل سے سونا بنے کا قائل نہیں۔بعض مثالیں خطابی ہوتی ہیں۔اس میں بھی کیمیا گر کے دعوے پر مثال کی بنیا درکھی گئی ہے نہ کہ اپنے عقیدہ پر (الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۳۵ء)