خطبات محمود (جلد 16) — Page 159
خطبات محمود ۱۵۹ ۹ سال ۱۹۳۵ء ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ( فرموده یکم مارچ ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں یہ ذکر کیا تھا کہ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ مِنَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيم سے کی تفسیر بیان کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے مَلِک قُدوس، عَزِیز اور حکیم ہونے کی تسبیح دنیا کر رہی ہے۔اور مثال یہ دی گئی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کے لوگ تسبیح تحمید اور توحید سے بالکل خالی تھے۔جس طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ علوم سے خالی ہوتا ہے ویسے ہی وہ لوگ روحانی علوم اور نیکی و تقوای سے خالی تھے اور اُن کو دیکھ کر کوئی یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کو دنیا میں پھیلائیں گے۔ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ کی بعثت کی برکت سے عرب کے وہ لوگ جن کا گزارہ ہی شرک پر تھا اور جو تو حید کے نام تک سے ناواقف تھے اللہ تعالیٰ کی ایسی تسبیح اور تحمید کرنے لگ گئے کہ دنیا حیران رہ گئی وہ لوگ اس سے پہلے صللٍ مُّبِين سے میں تھے اور ان کو دیکھنے والا ہر شخص یہ خیال کرتا تھا کہ یہ کبھی ہدایت کا راستہ نہیں پا سکتے۔ایک گمراہی مشتبہہ ہوتی ہے اور ایک صاف نظر آتی ہے۔ایک ہندو جو رات دن عبادتِ الہی میں مشغول رہتا ہے ، محبت الہی پر تقریریں کرتا ہے، اپنی زندگی غرباء کی پرورش کے لئے وقف کر دیتا