خطبات محمود (جلد 16) — Page 116
خطبات محمود 117 سال ۱۹۳۵ء ہمارے لئے نکل آئے گا۔چند سال ہوئے میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ میں گھر کے اس حصہ میں ہوں جو مسجد مبارک کے اوپر کے صحن کے ساتھ ہے۔میں نے مسجد میں شور سنا اور باہر نکل کر دیکھا کہ لوگ اکٹھے ہیں ان میں ایک میرے استاد بھائی شیخ عبد الرحیم صاحب بھی ہیں۔سب لوگ مغرب کی طرف انگلیاں اُٹھا اُٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ دیکھ لو مغرب سے سورج نکل آیا اور وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب قیامت آگئی۔میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ اس وقت پہاڑیاں گر رہی ہیں ، درخت ٹوٹ رہے ہیں اور شہر ویران ہو رہے ہیں اور ہر ایک کی زبان پر یہ جاری ہے کہ تباہی آگئی قیامت آگئی۔میں بھی یہ نظارہ دیکھتا ہوں تو کچھ گھبرا سا جاتا ہوں مگر پھر میں کہتا ہوں مجھے اچھی طرح سورج دیکھ تو لینے دو۔میں خواب میں خیال کرتا ہوں کہ قیامت کی علامت صرف مغرب سے سورج کا طلوع نہیں بلکہ اس کے ساتھ کچھ اور علامات کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔چنانچہ ان دوسری علامتوں کو دیکھنے کے لئے میں مغرب کی طرف نگاہ کرتا ہوں تو وہاں بعض ایسی علامتیں دیکھتا ہوں جو قیامت کے خلاف ہیں اور غالبا سورج کے پاس چاند ستارے یا نور دیکھتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ قیامت کی علامت نہیں۔دیکھو فلاں فلاں علامتیں اس کے خلاف ہیں۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ میں نے دیکھا سورج غائب ہو گیا اور دنیا پھر اپنی اصل حالت پر آ گئی۔پس ہمارے لئے تو ابھی کئی قیامتیں مقدر ہیں۔ان معمولی ابتلاؤں سے گھبرا جانا تو بڑی ناسمجھی ہے۔جو شخص گھبرا کر یہ سمجھتا ہے کہ اب قوم تباہ ہوگئی وہ بھی غلطی کرتا ہے اور جو سمجھتا ہے کہ انسانی طاقتیں ہمارے سلسلہ کو مٹا سکتی ہیں وہ بھی غلطی کرتا ہے۔تمہارے سامنے اس وقت ایک پُل صراط پیش ہے تم اس پر چلو تم حکومت کے قوانین کی پابندی کرو، تم شریعت کی پابندی کرو۔تم سلسلہ کی روایات کا احترام کرو اور چلتے چلے جاؤ اور یقین رکھو کہ کامیابی تمہارے لئے ہے۔تمہیں تلوار کی دھار پر اس وقت چلنا پڑے گا تمہیں قانون کی بھی پابندی کرنی پڑے گی تمہیں شریعت کی بھی پابندی کرنی پڑے گی، تمہیں سلسلہ کی روایات کا احترام بھی مد نظر رکھنا ہوگا اور اس کے ساتھ تمہیں موجودہ رفتن کا مقابلہ بھی کرنا ہو گا۔تم خیال کرتے ہو گے کہ ان شرائط کی پابندی کے بعد ظلموں کے دُور کر نے کا کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے لیکن میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اس تلوار کی دھار پر اتنا گھلا راستہ ہے کہ تم بغیر کسی خوف وخطر کے منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہو تم میری بات سنو اور سمجھو اور میرے پیچھے چلے آؤ تمہیں ایک نہایت ہی گھلا راستہ نظر آئے گا اتنا گھلا راستہ کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور سمجھو کہ کامیابی