خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 76

خطبات محمود 44 سال ۱۹۳۴ء لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں اس سے مراد کیا ہے؟ ایک بے معنی فقرہ ہے جسے نشان سے تعبیر کیا جارہا ہے۔اسی طرح انبیاء کی تقریروں کا حال ہوتا ہے۔اگر ایک طرف محمد اللہ کے وعظوں کو سن کر مؤمنین کہہ اُٹھتے کہ کیا عجیب نکات معرفت بیان کئے گئے ہیں، کتنے زبردست دلائل ہیں، یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا دل کے تمام زنگ دور کر دیئے گئے۔تو دوسری طرف قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق کہا کرتے کہ مَاذَا قَالَ انِفًا سے یہ ابھی ابھی کیا کہہ رہے تھے۔گویا ایک ہی تقریر ہے۔مگر ایک تو سن کر کہتا ہے کہ معرفت کے دریا بہا دیئے گئے۔اور دوسرا کہتا ہے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا، انہوں نے کیا کہا ہے۔پس در حقیقت دونوں چیزیں خداتعالی سے مؤید ہیں اور دونوں وحی والہام سے تائید یافتہ ہیں۔جس طرح خدا کا پانی میٹھے کو اس کی شیرینی میں بڑھا دیتا ہے اسی طرح کڑوے کو اُس کی کڑواہٹ میں بھی بڑھا دیتا ہے۔پس ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جن لوگوں سے ہمارا مقابلہ ہے وہ ہماری طرح ہی اللہ تعالٰی کے ایک قانون سے مؤید ہیں۔اس کا ایک قانون ہماری تائید ہیں ہے اور وہ یہ کہ نیکی بڑھتی ہے اور اس کا ایک قانون اُن کی تائید میں ہے اور وہ یہ کہ انبیاء کی جماعتوں کے مقابل تمام مخالف طاقتیں اپنی عداوتوں کو بھول کر اَلْكُفْرُ مِنَةٌ وَاحِدَةً کے مطابق متحد ہو جاتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ہر ممکن طریق سے نبی کی جماعت کو صفحہ ہستی سے معدوم کر دیں۔اس زمانہ میں ہی دیکھ لو۔احمدیت کی مخالفت میں ہندو، سکھ، عیسائی، مسلمان سب متحد ہیں۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ ہر قوم میں کچھ شریف لوگ موجود ہوتے ہیں اور وہ دل میں ہدایت کی تڑپ رکھتے ہیں، ان کا اس جگہ ذکر نہیں لیکن وہ لوگ جو تعصب کا شکار ہیں خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب احمدیت کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی اس طرح تائید کرتے ہیں که انسان حیران رہ جاتا ہے۔کتنی موٹی سے موٹی بات ہو مخالفوں کے سامنے جب اسے پیش کرو وہ ہمیشہ اس کے ماننے سے انکار کردیں گے۔ایک مذہب کے متعصب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کے متعصب سے اپیل کرو، بجائے صداقت کی تائید کرنے کے دوسرے مخالف کی تائید کرے گا گو وہ اس کے مذہب کا بھی مخالف ہو۔غرض اس قسم کے لوگوں میں جدھر بھی تم توجہ کروگے فطرت کو ڈھنپا ہوا اور نیکی کو مردہ پاؤ گے اور سب میں اس غرض کیلئے اتحاد دیکھو گے کہ وہ احمدیت کو کچل دیں۔ایسے حالات میں ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ : صبر و استقلال سے دشمن کا مقابلہ ایسے رنگ میں کریں کہ اسے ہمارے کسی فعل پر گرفت کا