خطبات محمود (جلد 15) — Page 72
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۴ جماعت سے عموماً اور ان مخلصوں سے بالخصوص جنہوں نے سلوک کیلئے اپنے نام دیئے ہوئے ہیں کہتا ہوں کہ وہ ان ایام میں خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو مخفی ابتلاؤں سے بھی اور ظاہری سے بھی محفوظ رکھے۔اور اس عظیم الشان ابتلاء سے بھی جو گو ابتدائی ایام کی مخالفت کے مشابہ ہے مگر اس وجہ سے اُس سے بہت زیادہ خطرناک ہے کہ اُس وقت ہم میں خدا تعالی کا نبی تھا اور آج نہیں، محفوظ رکھ کر ہمیں ہر ایک قسم کی شکست ذلّت، نامرادی، رُسوائی اور بدنامی سے بچائے۔اور ہر قسم کے فضل، برکات، عنایات اور مہربانیوں سے حصہ دے۔کامیابیاں، کامرانیاں، فتوحات، ترقیات اور غلبہ عطا فرمائے۔تا اس کام کو جو اس نے ہمارے ذمہ لگایا ہے ہم کما حقہ کر سکیں۔اور تا ہماری غلطیوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بدنام نہ ہوں۔پس دعائیں کرو۔ہے چالیس روز کی دعائیں ہی ہمارے اندر ایک تغیر پیدا کردیں۔ہمارے لئے ہمارے خاندانوں، ہمسائیوں دوستوں رشتہ داروں، شہریوں اور جماعت کیلئے ایک نیک تغیر کا موجب ہو جائیں۔پھر ایسا تغیر ہو کہ ساری دنیا نیک ہو جائے۔بعض دفعہ انسان سرے پر پہنچ کر گر پڑتا ہے۔کسی شاعر نے کہا ہے قسمت کی نارسائی سے ٹوٹی کہاں کمند ، دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا پس ایسا نہ ہو کہ سُستی کی وجہ سے ہم لب بام پہنچ کر گر پڑیں۔پس چاہیے کہ ہم اس طرح اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ دعا ہمیں اُٹھا کر بام کامرانی پر پہنچا دے۔اور اس کے بعد اور ابتلاء نہ ہوں۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اب ہم دعاؤں سے کام نہ لیں تو یہ مصائب کا سلسلہ سالوں بلکہ صدیوں تک چلا جائے۔پس تمام جماعت سے بالعموم اور ان لوگوں سے جنہوں نے سلوک کیلئے اپنے نام دیئے ہوئے ہیں۔(اگرچہ میری طرف سے ناموں کی تاحال منظوری نہیں ہوئی مگر جب تک میں کوئی فیصلہ نہ کروں وہ سب سالکین میں شامل ہیں جنہوں نے نام دے رکھے ہیں بالخصوص یہ کہتا ہوں کہ وہ خوب دعائیں کریں اور دوسروں کو بھی دعائیں کرنے کی تحریک کریں۔نیکی کی تحریک کرنا بھی ایک نیکی ہے۔میں نے دیکھا ہے میاں غلام قادر صاحب سیالکوئی رمضان کے دنوں میں جب سحری کے وقت پیا لے کر لوگوں کو جگاتے پھرتے تو محبت سے اُن کیلئے دعا نکلتی اور اُس وقت پیسے کی آواز تمام دنیا کے باجوں سے