خطبات محمود (جلد 15) — Page 47
خطبات محمود کروں تو وہ پہلے سے کیوں اس مصیبت کو دور کرنے کی فکر نہیں کرتا۔ایسا شخص جب دوسرے سے قرض لے رہا ہوتا ہے تو منہ سے تو قرض دینے والے کو کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں جلدی ادا کردوں گا مگر دل میں اس کے یہ ہوتا ہے کہ روپیہ میرے قابو میں آجائے، پھر کون واپس لے سکتا ہے۔میں ایسے شخص کو یقینی طور پر ویسا ہی مجرم سمجھتا ہوں جیسا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے گھر میں سیندھ لگانے والا بلکہ اس سے زیادہ بُرا۔کیونکہ جو شخص سیندھ لگاتا ہے وہ تو اپنے آپ کو چور کہتا ہے۔مگر یہ ایک طرف تو اپنی دیانت داری کا سکہ بٹھاتا ہے، دوسری طرف جماعت کی ہمدردی اور اخوت یاد دلاتا ہے، تیسری طرف قرآن مجید کے احکام سناتا اور کہتا جاتا ہے، میری ضرور مدد کرو احمدیت آخر کس چیز کا نام ہے، ایک مہینہ یا دو مہینہ تک روپیہ ادا کردوں گا۔اس دھوکے اور فریب کے ذریعہ وہ دوسرے کا مال اُڑا لیتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ شاید میں دیانت دار ہی مشہور رہوں گا مگر آخر وہ وھو کا باز مشہور ہو جاتا ہے اور ہر شخص سمجھ لیتا ہے کہ یہ فریبی ہے بہانوں۔سے روپیہ وصول کرلیتا ہے مگر دینے کا نام نہیں لیتا۔پھر اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک شخص سے لیا ہوا روپیہ ہمیشہ تو کام نہیں آسکتا، کچھ عرصہ کے بعد ضرور ختم ہو جائے گا، پھر وہ کیا کرے گا۔شاید اس کا خیال ہو وہ کسی دوسرے سے لے لے گا اور ممکن ہے اس میں کامیاب بھی ہو جائے مگر پھر کیا کرے گا۔اس کے بعد اگر وہ تیسرے شخص کو بھی دھوکا دے لے تو پھر کیا ہوگا۔آخر چھ مہینے، سال دو سال، چار سال کے بعد لوگ شور مچائیں گے اور اسے قرض دینا بند کردیں گے۔پھر وہ جماعت کے پاس آئے گا اور کہے گا اب میں کیا کروں میرے لئے کوئی انتظام کرو مگر یہی بات اُس نے پہلے کیوں نہ کی۔اور قرض لینے سے پہلے ہی وہ کیوں نہیں فکر کرتا کہ اب میں کیا کروں۔دھوکا بازیاں کرنے کے بعد اُس نے جو کچھ کہنا ہے، وہ کیوں نہیں کہہ دیتا۔ہاں بعض دفعہ یقین ہوتا ہے کہ کہیں سے روپیہ آنے والا ہے۔مثلاً کسی نے اس کا سو دو سو روپیہ دینا ہو اور سال بھر کا وعدہ ہو۔اِس دوران میں اُسے خود روپیہ لینے کی ضرورت پیش آجائے اور وہ کسی کے پاس جاکر کے کہ مجھے فلاں سے روپیہ لینا ہے کیا آپ مجھے اس روپیہ کے ملنے تک جس کی مجھے غالب امید ہے کچھ روپیہ قرض دے سکتے ہیں۔اگر دے دیں تو کام چل سکتا ہے۔یا زمیندار اگر کہہ دے کہ فصل پکنے پر روپیہ ادا کردوں گا تو یہ اور بات ہے۔لیکن اگر اسے کہیں سے روپیہ کی وصولی کی امید ہی نہ ہو اور پھر بھی وہ روپیہ۔