خطبات محمود (جلد 15) — Page 448
خطبات محمود ۴۴۸ سال ۱۹۳۴ء علاوہ اس کے ذریعہ اپنی ضرورتیں پوری کریں۔سمجھ لو کہ اس وقت پنجاب میں جماعت کی تعداد ۵۶ ہزار ہی ہے جیسا کہ مردم شماری کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے اسی نسبت سے سارے ہندوستان میں ایک لاکھ احمدی سمجھ لو۔تب بھی ان میں سے دس ہزار عاقل بالغ مرد بوڑھے بچے اور عورتیں نکال کر ہوتے ہیں۔یہ وہ کم سے کم تعداد ہے جو میسر آسکتی ہے۔اس میں سے کم از کم ایک ہزار سرکاری ملازم ہوں گے اور سرکاری ملازموں کو کچھ نہ کچھ رخصتیں ملتی ہیں۔بعض اس قسم کے ملازم ہوتے ہیں کہ اگر ایک سال کی رخصت نہ لیں، دوسرے سال بھی نہ لیں تیرے سال تین ماہ کی رخصت مل جاتی ہے۔اگر چار سو بھی ایسے ہوں جن کی رخصتیں اس طرح جمع پڑی ہوں یا قریب کے عرصہ میں جمع ہونے والی ہوں اور وہ سلسلہ کی خدمت کیلئے ان رخصتوں کو وقف کردیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک سال کیلئے کام کرنے والے سو مبلغ مل گئے۔ایسے اصحاب تین تین ماہ کی چھٹیاں لے لیں اور ان چھٹیوں کو سلسلہ کی خدمت کیلئے وقف کر دیں۔پھر ہم انہیں جہاں چاہیں تبلیغ کیلئے بھیج دیں۔اگر چار سو ایسے اصحاب اپنے آپ کو پیش کریں تو ایک سو مبلغ سال بھر کام کرنے والے اور اگر دو سو پیش کریں تو پچاس مبلغ سال بھر کام کر سکتے ہیں اور اس طرح تبلیغ کیلئے اچھی خاصی طاقت حاصل وسکتی ہے۔ان کے متعلق میری سکیم یہ ہے کہ ان کو ایسی جگہ بھیجیں جہاں احمدی جماعتیں نہیں۔اور جہاں تین ماہ ایک اکیلا احمدی رہے گا جس کا دن رات کام تبلیغ کرنا ہوگا ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں نئی جماعت نہ قائم ہو جائے۔اگر دوسو اصحاب بھی اپنے آپ کو پیش کردیں تو پچاس کو ایک وقت میں تبلیغ کیلئے پچاس نئے مقامات پر بھیج سکتے ہیں کہ وہاں تبلیغ کرو۔اس طرح تین ماہ میں پچاس نئی جماعتیں قائم ہو جائیں گی۔اگلے تین ماہ میں پچاس، اور پچاس مقامات پر بھیج دیں گے اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک سال میں دو سو مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہو سکتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک احمدی میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ جس طرح ڈائنامیٹ کے ذریعہ چٹان کو اُڑا دیا جاتا ہے اسی طرح احمدی کا وجود ڈائنامیٹ کی حیثیت رکھتا ہے جو تاریکی اور ظلمت کو مٹادیتا ہے، نئی فضا پیدا کردیتا ہے اور نیا ماحول بنا دیتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جہاں نئی جماعت قائم ہوگی وہاں مخالفت بھی بڑھ جائے گی، لوگ پہلے سے زیادہ گالیاں دینے لگ جائیں گے احمدیوں کو مارنے پیٹنے پر اُتر آئیں گے زنگ آلود دلوں کے زنگ اور ترقی کریں گے اور ان کی روح کی موت اور بھیانک شکل اختیار