خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 447

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء شرط ضرور لگاتا ہوں کہ وہ اس کھانے کو جو ملازمین وغیرہ کیلئے پکے خود استعمال نہ کریں اور اگر استعمال کریں تو جھجر کے ایک نواب صاحب کی طرح کریں جن کے متعلق کہتے ہیں کہ کھانا تیار ہونے کے بعد وہ باورچی کو بلا کر کہتے کہ تم نے میرے لئے جو سب۔سے اچھا کھانا پکایا ہے وہ لے آؤ۔جب وہ لے آتا تو اپنے ایک خاص ملازم کو دے کر کہتے کہ یہ لے جاؤ اور کسی فوجی سپاہی کو دے کر اس کا کھانا لے آؤ اور اس طرح اس کا کھانا منگا کر کھالیتے۔بعض کا خیال ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ کھانے میں انہیں زہر نہ دے دیا جائے اس لئے ہر روز کسی نئے سپاہی کے کھانے سے اپنے کھانے کا تبادلہ کر لیتے لیکن بعض کا خیال ہے کہ وہ سپاہی منش تھے اور چاہتے تھے کہ سپاہیانہ روح قائم رہے اور کمزوری پیدا نہ ہو۔مومن چونکہ نیک گمان رکھتا ہے ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ سپاہیانہ زندگی کے قیام کیلئے ایسا کرتے تھے۔پس اگر کسی کو خواہش پیدا ہو کہ ملازم کیلئے جو کھانا پکا ہے، وہ خود کھائے تو اپنا کھانا اسے دے دے۔یہ نہیں کہ ملازموں کے نام سے دوسرا کھانا تیار کرلیا جائے اور پھر اس میں خود بھی شرکت کرلی جائے۔بعض لوگ پوچھتے ہیں کیا چٹنی کھانی جائز ہے۔انہیں میں کہتا ہوں جو کام کرو اخلاص اور دیانت سے کرو۔اس تحریک کی غرض اقتصادی حالت کا درست کرنا اور چسکوں سے بچاتا ہے۔پس اگر کسی دن طبیعت خراب ہوئی اور سادہ چٹنی کی ضرورت محسوس ہوئی تو ر بات ہے لیکن ان بہانوں سے منہ کے چسکے پیدا کرنے سے کیا فائدہ ہے۔اس سے بہتر ہے کہ انسان تحریک میں شامل ہی نہ ہو۔پس کبھی کبھار اور ضرورتا استعمال میں حرج نہیں ورنہ بہانہ خوری سمجھی جائے گی۔اب میں ساتواں مطالبہ پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس وقت کی تبلیغی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر ان تمام مطالبات کے باوجود جو میں کرچکا ہوں ہماری تبلیغی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں اور پھر بھی ہماری مثال اُحد کے شہیدوں کی سی رہتی ہے کہ اگر کفن سے ان کے سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگے ہو جاتے ہے کیونکہ اُس وقت اتنا کپڑا میسر نہ تھا جو پورا آسکتا۔ہماری بھی اس وقت یہی حالت ہے ہم اگر ایک طرف توجہ کرتے ہیں تو دوسری جہت خالی رہ جاتی ہے اور اگر دوسری جہت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو پہلی خالی ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں ضروری ہے کہ تبلیغی کوششوں کی کوئی اور راہ بھی ہو۔یعنی ایسی ریزرو فورس ہو کہ ضرورت پڑنے پر اس سے کام لے سکیں اور مبلغین کے کام کے