خطبات محمود (جلد 15) — Page 429
خطبات محمود ۴۲۹ سال ۱۹۳۴ء مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو سرکاری ملازم ہیں اور ان کو خاص سرکاری تقریبوں پر ایسے تماشوں میں جانا پڑ جائے۔بعض سرکاری تقریبوں کے موقع پر کوئی کھیل تماشہ بھی مجزوِ پروگرام ہوتا ہے ایسے موقع پر اگر جانا لازمی ہو تو جانے کی اجازت ہے۔لیکن اگر لازمی نہ ہو تو پھر انہیں چاہیے کہ خواہ مخواہ دوسروں کو انگشت نمائی کا موقع نہ دیں۔جب چھوڑنے میں مشکلات ہوں تو مجبوری ہے لیکن جب نہ دیکھنے میں کوئی حرج نہ ہو تو ایسی جگہ جانے کی جو بدنامی کا موجب ہو، کوئی ضرورت نہیں۔سینما کے متعلق اب میری یہی رائے ہے کہ یہ سخت نقصان وہ چیز ہے۔اگرچہ آج سے صرف دو ماہ قبل تک میرا خیال تھا کہ خاص فلمیں دیکھنے میں حرج نہیں لیکن اب غور کرنے اور اس کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے بعد کہ ملک پر اس کا کیا اثر ہو رہا ہے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ فلموں کو دیکھنا ملک اور اس کے اخلاق کیلئے ہے اور اس لئے قطعا ممنوع ہونا چاہیئے۔میں نے تھوڑے ہی دن ہوئے فرانس کے متعلق پڑھا ہے کہ وہاں گورنمنٹ کو فکر پڑ گئی ہے کیونکہ کئی گاؤں اس لئے ویران ہو گئے ہیں کہ لوگ سینما کے شوق میں گاؤں چھوڑ کر شہروں میں آکر آباد ہو گئے ہیں۔اس طرح کے اور بہت سے حالات ہیں جن پر نظر کرکے میں سمجھتا ہوں کہ یہ چیز دنیا کے تمدن کو برباد کردے گی مگر میں ہمیشہ کیلئے اس کی ممانعت نہیں کرتا کیونکہ یہ حرمت کی صورت ہو جاتی ہے اور اس کیلئے علماء سے مشورہ کی ضرورت ہے اس لئے فی الحال ضرورت دینی کے لحاظ سے تین سال کیلئے اس کی ممانعت کرتا ہوں اور یہ میرے لئے جائز ہے۔نمائش وغیرہ کے مواقع پر تجارتی حصے کو دیکھنا جائز ہے۔کپڑے دیکھو، پیج دیکھو دوسری چیزوں کو دیکھو اور ان سے اپنے لئے اور اپنے خاندان کیلئے فائدے کی باتیں نکالو۔مگر تماشے کا حصہ دیکھنا جائز نہیں۔ملک چھٹا شادی بیاہ کا معاملہ ہے۔چونکہ یہ جذبات کا سوال ہے اور حالات کا سوال ہے اس لئے میں یہ حد بندی تو نہیں کر سکتا کہ اتنے جوڑے اور اتنے زیور سے زیادہ نہ ہوں۔ہاں اتنا رہے کہ تین سال کے عرصہ میں یہ چیزیں کم دی جائیں جو شخص اپنی لڑکی کو زیادہ دینا چاہے وہ کچھ زیور کپڑا اور باقی نقد کی صورت میں دیدے۔ساتواں مکانوں کی آرائش و زیبائش کا سوال ہے۔اس کے متعلق بھی کوئی طریق میرے ذہن میں نہیں آیا۔ہاں عام حالات میں تبدیلی کے ساتھ اس میں خود بخود تبدیلی ہو سکتی ہے۔جب غذا اور لباس سادہ ہو گا تو اس میں بھی خود بخود لوگ کمی کرنے لگ جائیں گے۔