خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 402

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ تو ان ہے تو اسے اچھی طرح جھنجوڑتی ہے پھر جب اس کی جان نکلنے کے قریب ہوتی ہے تو وہ اسے چھوڑ دیتی اور خود ایک طرف بیٹھ جاتی ہے۔تھوڑی دیر کے بعد جب چوہا سانس لینا شروع کرتا اور اسے کچھ طاقت محسوس ہوتی ہے تو وہ بلی کو دیکھنا شروع کرتا ہے کہ کہیں یہ غافل ہو تو میں بھاگوں بلی بظاہر اس سے غافل ہوتی ہے مگر کنکھیوں سے اسے دیکھتی جاتی ہے۔جب چوہا موقع پاکر دوڑنے لگتا ہے تو جھٹ بلی چھلانگ لگا کر اس کی گردن مروڑ لیتی ہے۔یہی حال ہمارا اور ان کا تھا شروع شروع میں گو ہماری تعلیم یہی تھی اور ہم انہی عقائد کو پیش کرتے تھے، مگر بڑے بڑے مالدار یہ کہا کرتے تھے کہ ان کے ساتھ بحث کرنا وقت کو ضائع کرنا ہے بھلا کیا پڑی اور کیا پدی کا شوربہ ، ہم جب چاہیں گے انہیں مسل دیں گے، مولوی لوگ سمجھتے کہ الا کے کفر کے فتوے ہماری جماعت کو مٹادیں گے، سیاستدانوں کے سامنے جب ہماری جماعت کا ذکر آتا ہے تو وہ کہتے ہیں یہ چھوٹی سی جماعت ہے، اس نے کیا کر لیتا ہے آپس میں اتحاد رکھنا چاہیے۔اقتصادی لوگوں کے سامنے ابھی ہماری تعلیمیں آئی ہی نہ تھیں۔غرض ہماری جماعت کو چوہے کی طرح سمجھا جاتا تھا۔مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ جسے چوہا سمجھتے تھے شیر ہے اور جسے ناقابل التفات سمجھتے تھے وہ جماعت دنیا کو کھانے لگ گئی ہے۔وہ بڑے بڑے باوقار لوگ جو اپنی کرسیوں پر اس خیال میں مست بیٹھے تھے کہ ہم جب چاہیں گے احمدیوں کو مسل کر رکھ دیں گے، وہ بھی ہمارے نظام اور جماعت کی ترقی کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ جماعت شیر ہے جو ایک دن دنیا پر غالب آکر رہے رہے گی۔پس لوگ ہمارے دشمن ہیں مگر ہم کسی کے دشمن نہیں، ہم مسلمانوں کے بھی خیر خواہ ہیں اور ہندوؤں کے بھی بلکہ ہندوؤں کے بزرگوں کو سچا تسلیم کر کے مسلمانوں کی نگاہ میں کافر بنتے ہیں، سکھوں کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ حضرت باوا نانک صاحب کو خدا کا ولی اور نہایت نیک انسان ہیں، حکومت کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ انارکسٹوں کا مقابلہ کرتے اور قانون کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں، کانگرس کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ ہم ملک کی جائز حد تک آزادی کو ضروری قرار دیتے ہیں ، امراء کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ سٹرائکیں ہوں اور لوگ انہیں قتل کریں، غریبوں اور مزدوروں کے بھی خیر خواہ ہیں کیونکہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ جو ان پر ظلم ہوتے ہوں ان کا ازالہ کیا جائے اور ان کے حقوق انہیں دلوائے جائیں۔غرض ہم سب کے خیر خواہ ہیں اور ہمارا قصور اگر ہے تو یہ کہ ہم اتنے خیر خواہ نہیں جتنی مجھتے