خطبات محمود (جلد 15) — Page 401
خطبات محمود ۴۰۱ سال ۱۹۳۴ء کی وجہ یہ سکتا طرف سے تبلیغ ہو رہی ہے مجھ سے وہاں کے وزیر نے شکایت کی کہ ان کی تبلیغ سے خطرات ہیں ہمیں اس کے روکنے کی اجازت دی جائے۔تو میں نے لکھا کہ اگر احمدی اچھوتوں میں تبلیغ کریں تو انہیں روک دو ہاں اگر مسلمانوں میں تبلیغ کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس بیان کی کہ اچھوتوں میں تبلیغ کرنے سے زمیندار ناراض ہوتے ہیں کہ ہمارے کاموں کو نقصان پہنچتا ہے۔غرض اچھوت قوموں کی ترقی اور سدھار جو ہمارے ذریعہ ہو۔ہے، وہ نہ آریوں کے ذریعہ ہو سکتا ہے اور نہ عیسائیوں کے ذریعہ مسلمان ہی وہ قوم ہے جس میں اچھوت جذب ہو کر ایک ہو سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ جب کوئی اچھوتوں میں سے نیا نیا نکل کر آتا ہے تو اس سے تعلقات رکھنے پسند نہیں کئے جاتے مگر آہستہ آہستہ خود ہی مسلمانوں میں جذب ہو جاتے ہیں۔جیسے کوئی کھیت میں جائے اور تازہ پاخانہ پڑا ہوا دیکھے تو دو چار دن شلجم کدو کھانے کو اس کا جی نہیں چاہتا مگر دو چار دن کے بعد خود بخود کھانے لگ جاتا ہے۔اسی طرح اچھوت دوچار نسلوں میں ہی مسلمانوں میں اس طرح مل جاتے ہیں کہ ان کا کچھ پتہ نہیں لگتا۔بہر حال اچھوتوں میں تبلیغ کرنے کی وجہ سے مالدار طبقہ کو ہم پر غصہ آتا ہے۔پھر غرباء کی جب ہم ناجائز مدد نہیں کرتے تو انہیں بھی ہم پر غصہ آتا ہے۔وہ جب سٹرائکیں کرتے ، کارخانوں کو آگ لگاتے اور بائیکاٹ کی تحریکات جاری کرتے ہیں تو ہم ان کی مخالفت کرتے ہیں اور اس طرح مزدور طبقہ سمجھتا ہے کہ ہم ان کے دشمن ہیں حالانکہ ہم غرباء کو ان کے حقوق دلاتے اور امراء کو دست درازیوں اور تعدیوں سے مجتنب رہنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ امراء غرباء کی تذلیل کریں مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ غرباء امراء کو قتل کریں اور ان پر ناجائز حملے کریں۔دونوں ہمارے مخالف ہو جاتے ہیں۔پس اقتصادی اصول پر بھی ہماری مخالفت شروع ہو گئی ہے۔ان تینوں وجوہات کی بناء پر مذہبی، سیاسی اور اقتصادی رنگ میں ہماری مخالفت کی جاتی ہے۔ہم ہر ایک کے دوست اور خیر خواہ ہیں مگر چونکہ دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اس حد تک ان کے دوست نہیں جس حد تک وہ چاہتے ہیں، اس لئے وہ ہماری دشمنی کرتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تمام لوگ ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔مگر سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اب یہ لوگ کیوں زیادہ مخالفت کر رہے ہیں ہماری جماعت تو ابتداء سے انہی اصول کی قائل ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری اور ان کی مثال بلی اور چوہے کی سی ہے۔بلی جب چوہے کو پکڑتی