خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 318

خطبات محمود ٣١٨ سال ۱۹۳۴ء ہمارے خلاف فیصلہ کرتی تو میں سمجھتا کہ معاملہ اتنا صاف نہیں جتنا کہ ہم اسے سمجھتے تھے اور گو ہمارے دل اپنی صداقت کے ہی قائل رہتے لیکن بہر حال ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد ہم اس پر خاموشی اختیار کرلیتے۔لیکن جس قانون کے ماتحت بلاوجہ مجھے باغی اور حکومت کا تختہ الٹنے والا قرار دیا گیا ہے، اس میں ہائی کورٹ کے پاس اپیل کی کوئی راہ نہیں کھلی رکھی گئی۔میں جانتا ہوں کہ میرے دل میں ملک معظم کے متعلق کیا جذبات ہیں، میں جانتا ہوں کہ گورنمنٹ کی وفاداری اور اس کی اطاعت کے متعلق میرے کیا خیالات ہیں، میں ہر اس اور ہر اس بھیانک سے بھیانک لعنت کو اٹھانے کیلئے تیار ہوں جو سنگدل سے سنگدل انسان کو بھی ڈرانے والی ہو کہ یہ الزام جو ہم پر لگایا گیا جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ہم ہمیشہ ملک معظم کی وفادار رعایا رہے، ہمیشہ امن پسندی اور اطاعت شعاری ہمارے مذہب کی تعلیم ہے سول ڈس او بیڈینس کا کبھی واہمہ بھی ہمارے دل میں نہیں گذرا اور نہ گزر سکتا ہے کیونکہ ہماری مذہبی تعلیم ہمیں اس سے روکتی ہے۔پس اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمارے خلاف ہو تا تب بھی گو دل میں میں یہی سمجھتا کہ ہم حق پر ہیں لیکن چونکہ معاملات کو ایک جگہ ختم کرنا پڑتا ہے، اس لئے میں اس امر کو چھوڑ دیتا اور میں اب بھی آمادہ ہوں کہ ایک انگریز جج کے سامنے اپنے تمام کاغذات کو رکھوں اور پھر وہ جو فیصلہ کردے، اسے منظور کرلوں۔بلکہ انگریز جج کی خصوصیت نہیں میں اس امر کیلئے بھی تیار ہوں کہ مسلمانوں میں سے کسی ایسے شخص کو جس پر حکومت کو بھی اعتبار ہو اور ہمیں بھی، مقرر کر دیا جائے کہ وہ قضائی نقطہ نگاہ سے اس امر میں فیصلہ کردے اور میں اس کے فیصلہ کو تسلیم کرلوں گا۔میں سمجھتا ہوں شاید ہز ایکسی لینسی گورنر کا نام لینا اُن کی شان کے خلاف ہو اس لئے میں ان کا نام نہیں لے سکتا لیکن حق یہ ہے کہ گو وہ اس ایگزیکٹو کے افسراعلیٰ ہیں جس نے یہ حکم دیا ہے پھر بھی اگر وہی کہیں کہ میں ہی اس قضیہ کا قضائی فیصلہ کر دیتا ہوں تو میں انہی پر اس جھگڑے کا فیصلہ چھوڑنے پر آمادہ ہوں۔پس ہماری طرف سے کوئی جھگڑا نہیں بلکہ اس معاملہ میں میں نے گزشتہ جمعہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی اس تحریک پر کہ اس معاملہ میں جلدی نہ کی جائے ایک خاص آدمی پچھلے جمعہ کے خطبہ سے پہلے ان کی طرف بھیجا اور اسی وقت میں نے انہیں لکھ دیا کہ میں کوئی ایسا اقدام نہیں کروں گا جو جلد بازی پر مبنی ہو۔میں پہلے گورنمنٹ پنجاب کے پاس اپیل کروں گا۔