خطبات محمود (جلد 15) — Page 310
خطبات محمود ۳۱۰ سال ۱۹۳۴ء کرنے کیلئے اپنی عزت کی قربانی کی ماریں کھائیں ، گالیاں کھائیں۔احراری اب بھی کہتے ہیں کہ ہم مذہبی اختلاف کو برداشت کر سکتے ہیں مگر ان کی حکومت سے وفاداری کو برداشت نہیں کرسکتے۔ہم نے حکومت کی خاطر اس قدر تکالیف اٹھائیں مگر اس سے کیا لیا۔اور پھر احراریوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر ہماری کسی خدمت کی وجہ سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ پہنچا تو کیا وہ ایسے ہی ان سے مستفید نہیں ہو رہے جیسے ہم۔ہمیں تو نہ ملک کی خدمت سے کچھ ملا اور نہ حکومت کی خدمت سے سوائے اس کے کہ گالیاں کھائیں، ماریں کھائیں، ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے محض اس لئے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا صاف لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خان نے صاحبزادہ سید عبداللطیف کو اس لئے مروا دیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرتا ہے۔پس ہم نے اپنی جانیں اس لئے قربان کیں کہ انگریزوں کی جانیں بچیں مگر آج بعض ہمیں یہ بدلہ ملا ہے کہ ہم سے باغی اور شورش پسندوں والا سلوک روا رکھا ہے اور پھر وہ محسوس بھی نہیں کرتے کہ انہوں نے جو کچھ کیا غلط کیا ہے بلکہ ان کا جواب ویسا ہی ہے جیسا کہ محمود طرزی نے دیا تھا۔محمود طرزی امیر امان اللہ خان کے خسر اور افغانستان کے وزیر خارجہ تھے۔انہیں کے خط کی بناء پر میں نے مولوی نعمت اللہ صاحب کو وہاں بھجوایا تھا اور ان کا وہ خط آج بھی موجود ہے۔جس وقت مولوی نعمت اللہ صاحب کو شہید کیا گیا، وہ فرانس میں سفیر تھے۔جب وہ واپس آئے تو میں نے سید ولی اللہ شاہ صاحب کو ان سے ملنے کیلئے بھیجا۔انہوں نے جاکر کہا کہ آپ کے کہنے کے مطابق ہم نے اپنا آدمی وہاں بھیجا اور آپ نے اس کو شہید کر دیا یہ کیا ظلم کیا۔اس پر انہوں نے بہت ناراض ہو کر جواب دیا کہ غصہ کا موقع تو ہمیں ہے ہم نے تو تمہارا ایک آدمی ماردیا اور تم نے ہمیں ساری دنیا میں بدنام کر دیا اگر ہم نے مار دیا تھا تو اس قدر شور کیوں مچایا تمہیں چاہیے تھا کہ چُپ رہتے۔اسی طرح کا یہ گورنمنٹ بھی ہمیں جواب دیتی ہے کہ اگر ہتک ہو گئی تو کیا جس طرح ایک کتا مار کھا کر بھی اپنے آقا کے بوٹ کو چاہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو کہ سُبْحَانَ اللہ کیا عزت افزائی ہوئی ہے۔گورنمنٹ نے ہمارے خلیفہ کو مخاطب کیا ہے یہ بات جوں جوں انگلستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں پھیلے گی اور ضرور پھیلے گی تو ضرور حکومت کی بدنامی کا موجب ہوگی۔دنیا ہمیں