خطبات محمود (جلد 15) — Page 293
خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۳۴ء اور ہم پر اعتبار کریں کہ سلسلہ کی حفاظت کیلئے جو کچھ ہم کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔غرضیکہ ایک لمبا عرصہ ہماری طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ حکومت نے ہمیں کوئی اطلاع دی حتی کہ ستمبر میں ایک واقعہ ہوا جس کا یہاں بیان کر دینا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب ناظر امور عامہ کو جو ان دنوں شملہ میں تھے کمشنر لاہور ڈویژن کی طرف سے کہ وہ بھی وہیں تھے ، چٹھی ملی کہ میں نے ایک ضروری بات کہنی ہے، آپ کسی وقت مجھے آکر ملیں۔اس کے جواب میں خانصاحب سترہ ستمبر کو ان سے جاکر ملے۔اور کمشنر صاحب نے ان سے بعض باتیں کیں جن کی تفصیل خانصاحب نے اسی روز لکھ کر مجھے بھیج دی۔وہ مفصل چٹھی اب بھی موجود ہے اس میں خانصاحب نے لکھا ہے کہ آج کمشنر صاحب سے ملاقات ہوئی اور احراریوں کے جلسہ کے متعلق گفتگو ہوئی اور انہوں نے خواہش کی کہ اس موقع پر احمدیوں کی طرف سے کوئی بات نہ ہو جس سے اشتعال پیدا ہو۔خانصاحب نے کہا کہ آپ مطمئن رہیں، ہماری طرف سے کوئی ایسی بات ہرگز نہ ہوگی اگر ہم خود حفاظتی کی تدابیر کریں تو اس پر غالباً آپ کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نہیں۔اس ملاقات کی تفصیلی رپورٹ خانصاحب نے مجھے بھجوائی جو موجود ہے اور اس میں ایک لفظ بھی نہیں جس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہو کہ کمشنر صاحب نے باہر سے احمدیوں کو بلانے کی ممانعت کی تھی اور چونکہ خانصاحب نے اسی دن یہ رپورٹ لکھی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اتنی اہم بات کو اس قدر جلدی نہ بھول سکتے تھے۔اگر کمشنر صاحب نے اسی بات کیلئے ان کو بلایا ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ وہ اور باتیں تو لکھ دیتے مگر وہ بات جو ملاقات کی اصل غرض تھی، اسے بھول جاتے۔پھر کچھ روز بعد تو بھول جانا ممکن ہے مگر اسی روز بھول جانا بالکل عقل کے خلاف ہے۔مجھے اس تفصیل کو بیان کرنے کی اس لئے ضرورت ہوئی ہے کہ اٹھارہ تاریخ کو کمشنر صاحب یہاں آئے تھے اور انہوں نے جماعت کے نمائندوں سے شکایت کی تھی کہ جب میں نے بالوضاحت خانصاحب کو باہر سے آدمی ہلوانے سے روک دیا تھا تو پھر آپ نے کیوں آدمی بلوائے۔خان صاحب نے اسی وقت ان سے کہہ دیا کہ میں آپ سے اختلاف پر مجبور ہوں۔نہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہم آدمی بلوائیں گے اور نہ آپ نے منع کیا تھا۔آپ نے شورش والے افعال سے اجتناب کی نصیحت کی اور میں نے خود حفاظتی کی تدابیر کی اجازت لی۔خود حفاظتی سے میرا منشاء باہر سے آدمی بلانے کا تھا مگر میں نے اس کی