خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 292

خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۴ء سپرنٹنڈنٹ پولیس بلکہ پنجاب گورنمنٹ کو توجہ ولائتی جہاں تک مجھے یاد ہے یہی چیف سیکرٹری اس وقت بھی تھے مگر کسی نے کوئی حرکت نہیں کی لیکن یہاں انہیں انصاف اور نیوٹریلٹی کی سو جھی۔اور یہی کہتے رہے کہ کیا کریں کیونکر روکیں، ہمیں تو انصاف کرنا چاہیے۔حکومت کے پاس رپورٹیں کی گئیں کہ ان لوگوں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ ہم مینارہ کو گرادیں گے اور احمدی دیکھیں گے کہ ان کے خلیفہ کی لاش خون میں لوٹتی ہوگی۔اس تقریر کی نقل حکام کو بھیجوا دی گئی تھی قریباً ایک مہینہ ہوا مگر حکومت کے عدل و انصاف میں کوئی حرکت نہیں پیدا ہوئی۔کیا ہم نے بھی کہا تھا کہ معین الدین پور کے سیدوں کی لاشیں خون میں لوٹتی ہوئی نظر آئیں گی۔پس حکومت نے اس جلسہ کی اجازت دے کر بڑی سخت سیاسی غلطی کی ہے۔خیر جب ہم نے دیکھا کہ حکومت کچھ نہیں کرتی تو صدرانجمن احمدیہ نے ایک علیحدہ محکمہ بنادیا تاکہ وہ دیکھے کہ یہ لوگ کیا کرنے لگے ہیں اور مرزا شریف احمد صاحب کو ناظم کارِ خاص مقرر کیا گیا۔اس دوران میں حکومت کو اطلاعات دی گئیں، حکام بالا کو بھی اور مقامی حکام کو بھی حالات سے واقف کرانے کی کوششیں کی گئیں مگر ہمارے اخبارات اس بارے میں خاموش رہے تاکہ جماعت میں شورش پیدا نہ ہو۔گورنمنٹ نے اقرار کیا ہے اپنی اس چٹھی میں جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے کہ اسے اطلاع تھی کہ اس موقع پر فساد کا بڑا خطرہ ہے۔ہمیں بھی باہر کے دوستوں سے چٹھیاں آرہی تھیں کہ یہاں ایسے جلسے ہو رہے ہیں جن سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت فساد کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے ریکارڈ میں ایسی اطلاعات موجود ہیں۔مگر باوجود ان سب باتوں کے ہم نے اخبارات میں ان باتوں کا ذکر نہیں کیا۔اور اخبار الفضل نیز دوسرے اخبارات کے فائل گواہ ہیں کہ اس کے متعلق ہماری طرف سے ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا اور اس جلسہ کیلئے جماعت کو کوئی تحریک نہیں کی گئی بلکہ مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے یہی جواب دیا کہ ہمیں کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ شورش کریں۔اس کے متعلق ہمارے دوستوں پر اتنا اثر تھا کہ اخبار الفضل نے بعض وہ باتیں جو حکام کے خلاف لکھی جانی چاہئیے تھیں وہ بھی نہیں لکھیں اور اس پر میں نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔معلوم غرضیکہ میں یہی کہتا رہا کہ ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔باہر سے لوگ گھبراہٹ میں خطوط لکھتے تھے کہ یہاں شورش بہت زیادہ ہے مگر الفضل میں کچھ بھی نہیں ہوتا ہم حیران ہیں کہ کیا معاملہ ہے۔مگر ایسے دوستوں کو یہی جواب دیا جاتا رہا کہ آپ لوگ صبر سے کام لیں