خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 288

خطبات محمود ۲۸۸ سال ۱۹۳۴ء آواز آئے تو فوراً لبیک کہیں۔ممکن ہے میری دعوت پہلے اختیاری ہو یعنی جو چاہے شامل ہو۔اور میں امید کرتا ہوں کہ جس قدر میرا مطالبہ ہوگا، اس سے کم طاقت خرچ نہ ہوگی اور جماعت کا ہر شخص قربانی کیلئے تیار رہے گا۔غرض دو فرمانبرداریاں ہیں جن کا میں مطالبہ کرتا ہوں۔ان میں سے ایک تو ساری دنیا کو متحد کرنے والی ہے اور دوسری وقتی اور حالات کے مطابق بدلتی رہنے والی ہے۔پہلی فرمانبرداری میری ہے جو خدا اور اس کے رسول کے حکم کے ماتحت ہے کیونکہ میں صرف ہندوستان کے لوگوں کا ہی خلیفہ نہیں، میں خلیفہ ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کیلئے ، عرب، ایران، چین، جاپان، یورپ، امریکہ، افریقہ سماٹرا، جاوا اور خود انگلستان کیلئے غرضیکہ کُل جہان کے لوگوں کیلئے میں خلیفہ ہوں۔اس بارے میں اہل انگلستان بھی میرے تابع ہیں، دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہیں، سب کیلئے یہی حکم ہے کہ میری بیعت کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہوں۔لیکن دوسرا حکم وقتی ہے اور حالات کے ماتحت بدلتا رہتا ہے۔آج یہاں انگریزوں کی حکومت ہے اور ہم اس کے وفادار ہیں لیکن کل یہ بدل گئی تو ہم اس نئی حکومت کے وفادار ہوں گے۔اس کے بالمقابل خلافت نہیں بدل سکتی۔اس وقت میں خلیفہ ہوں اور میری موت سے پہلے کوئی دوسرا خلیفہ نہیں ہو سکتا اور تمام دنیا کے احمدیوں کیلئے میری ہی اطاعت فرض ہے۔ہندوستانیوں پر بھی میری اطاعت ویسی ہی فرض ہے جیسے اہل ایران یا اہل امریکہ یا دنیا کے کسی دوسرے ملک کے رہنے والوں پر لیکن ان کیلئے انگریزوں کی اطاعت فرض نہیں۔اہل افغانستان پر میری اطاعت فرض ہے مگر انگریزوں کی نہیں بلکہ ان کی جگہ اپنی حکومت کی اطاعت فرض ہے۔اسی طرح اہل امریکہ پر میری اطاعت فرض ہے مگر انگریزوں کی نہیں۔اس اطاعت میں احمدی متفرق ہیں لیکن میری اطاعت پر سب متفق ہیں۔افغان ایرانی ڈچ، شامی، مصری وغیرہ اپنے اپنے ہاں کی حکومتوں کے مطیع ہیں مگر وہ مرکزی نقطہ جس پر سب متفق ہیں، وہ میری اطاعت ہے اس میں جو تفرقہ کرتا ہے وہ فاسق ہے اور جماعت کا ممبر نہیں۔جہاں میں آپ لوگوں کو اس بات کی ہدایت کرتا ہوں کہ کسی جوش کی حالت میں آپ میں سے کوئی بھی قانون شکنی کی طرف توجہ نہ کرے۔وہاں حکومت کو بھی اس نہایت ضروری