خطبات محمود (جلد 15) — Page 289
خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۴ء مرکی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے افسران کو شرافت اور اخلاق کی تعلیم دے۔ہمارا گزشتہ تجربہ بتاتا ہے کہ بعض افسران نے نہایت ہی بُرا نمونہ دکھایا جس کے متعلق میں بعد میں ذکر کروں گا لیکن فی الحال صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ہماری طرف سے مطالبہ نہیں کہ کوئی نفس پرستی کی وجہ سے کہہ دے کہ رعایا ہو کر تمہارا کیا حق ہے کہ مطالبہ کرو۔اول تو حکومت نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ رعایا کو مطالبات کرنے کا حق حاصل ہے لیکن اگر اس کو جانے بھی دیا جائے تو میں کہوں گا یہ میرا مطالبہ نہیں بلکہ سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا نے اور وائسرائے ہند لارڈ چیمسفورڈ نے جو مشترکہ رپورٹ کی تھی، اس میں آئی۔سی۔ایس والوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اخلاق درست رکھیں اور پبلک سے ہتک آمیز سلوک نہ روا رکھا کریں اگر وہ ایسا کریں گے تو حکومت کو کمزور کرنے والے ہوں گے۔پس یہ وہ مطالبہ ہے جو ان کے افسران بالا نے ان سے کیا ہے، جو ان کی ملازمت کی ضروری شرط ہے، جسے اگر وہ پورا نہیں کرتے تو خائن اور بددیانت ہیں۔اب پہلے میں وہ حالات بیان کرتا ہوں جو اس خطبہ کا اصل باعث ہیں۔باہر کی جماعتوں کو ابھی تک کچھ حال معلوم نہیں کیونکہ ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ طبائع میں جوش پیدا نہ ہو اور اس لئے ابھی تک کچھ بھی بیان نہیں کیا۔اب میں ایسی ترتیب کے ساتھ تمام واقعات اس طرح بیان کرتا ہوں کہ جماعت کے افراد دوسری پبلک اور حکومت سب آسانی سے سمجھ سکیں اور جو نتائج میں ان سے نکالوں انہیں بھی اچھی طرح سمجھ سکیں۔میں کوشش کروں گا کہ نہایت اطمینان کے ساتھ اور بغیر کسی جوش کے سب واقعات دُہرا دوں تا میں بھی غلطی میں نہ پڑوں اور آپ لوگ بھی غلطی میں مبتلاء نہ ہوں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس جلسہ کی غرض کیا تھی۔ہمیں پہلی شکایت یہ ہے کہ جس رنگ میں یہ جلسہ کیا گیا ہے، حکومت کا فرض تھا کہ اسے روکتی۔ہم سب سے زیادہ اس اصل کے قائل ہیں کہ ہر شخص کو تبلیغ کا حق ہونا چاہیے بلکہ جو مضمون میری طرف سے آئندہ اصلاحات کے متعلق حکومت کو پیش کیا گیا ہے، اس میں یہ بات وضاحت سے درج ہے کہ ہر شخص کو تبلیغ کا حق حاصل ہونا چاہیئے اس لئے میری طرف سے اس بات کا کہا جانا ناممکن ہے۔کہ کیوں کسی کو اپنے عقائد کی تبلیغ کی اجازت دی گئی۔اگر احرار یہاں تبلیغ کیلئے آتے تو میں ہرگز یہ امید نہ کرتا کہ حکومت انہیں روک دے کیونکہ اس صورت میں میں اپنے اقوال اور