خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 272

خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۳۴ء لڑنا مرنا ہی ضروری نہیں بلکہ اگر حکم ہو تو گالیاں کھاکر صبر کرنا، ماریں کھانا دشمن کو حملہ کرتے دیکھ کر خاموش رہنا بھی ویسا ہی جہاد ہے۔اَلاِمَامُ جُنَّةَ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِم میں ہی بتایا گیا ہے کہ اسی کا نام جہاد ہے کہ جو امام کے ویسا ہی کرو۔نفس انسانی بھی بعض دفعہ ایسے دھو کے دیتا ہے کہ مثلاً ہم بہت مست ہیں، چپ چاپ بیٹھے ہیں، دشمن کی شرارتوں کا سدباب نہیں کرتے لیکن اگر یہ خیال کر لیا جائے کہ امام موجود ہے وہ جو حکم دے گا وہی بہتر ہو گا۔تو پھر ایسے خیالات خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔پس اضطراب کبھی پیدا نہ ہو۔ہاں ہو شیار ضرور رہو کہ کیا ہو رہا ہے۔خود قدم نہ اٹھاؤ بلکہ انتظار کرو کہ امام کیا حکم دیتا ہے۔اس وقت سارے ہندوستان میں احمدیت کے خلاف بہت شور ہے مگر جن مخالفتوں کا مقابلہ کرنا ہمارے لئے مقدر ہے، ان کے مقابلہ میں یہ شور و شر کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔میرے پاس جو رپورٹیں آتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض حکام بھی فتنہ انگیزوں سے ملے ہوئے ہیں اور بعض اوقات ایسے احکام صادر کر دیتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا انگریزوں کی نہیں بلکہ سکھوں کی حکومت ہے۔سکھوں کے ایک زمانہ میں بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سکھ کوئی لکھا ہوا کاغذ لئے پھرتے اور ظاہر یہ کرتے کہ گویا کسی کا خط آیا ہے اور ہر راہ گزر سے کہتے کہ اسے پڑھ دو۔اور جو پڑھ دیتا یا جواب میں کوئی عربی یا فارسی کا لفظ بول دیتا اسے مسلمان سمجھ کر تلوار سے گردن اتار دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سنایا کرتے تھے کہ امرتسر میں ایک سکھ ایسا ہی خط لئے پھرتا تھا، اس زمانہ میں ڈاکخانے تو نہیں تھے اس لئے خط سے موجودہ زمانہ کے مروجہ خط مراد نہیں بلکہ کوئی تحریر مراد ہے جو شخص اس تحریر کو پڑھ دیتا اسے وہ سکھ مارڈالتا۔چنانچہ ایک شخص سے اس نے پڑھنے کو کہا تو اس نے جواب دیا کہ میں تو بالکل پڑھا ہوا نہیں ہوں۔وہ سکھ کہنے لگا کہ اگر پڑھے ہوئے نہیں تو یہ کلبلیاں کہاں سے سیکھ گئے ہو اور یہ کہہ کر تلوار چلادی۔عجیب بات ہے کہ آج مسلمان سکھوں کی تعداد کی نسبت سے آدھے تعلیم یافتہ ہیں مگر اس زمانہ میں تعلیم یافتہ شخص کو لازماً مسلمان سمجھا جاتا تھا۔تو میں کہہ رہا تھا کہ آج کل بعض افسر بھی بعض اوقات ایسے ہی حکم دے دیتے ہیں۔مجھے یہ معلوم کر کے تعجب ہوا کہ ایک مجسٹریٹ نے بعض غیر احمدیوں سے کہا کہ تم کیوں علیحدہ جمعہ کی نماز پڑھتے ہو احراریوں کے ساتھ کیوں نہیں پڑھتے۔انگریزوں کا مقرر کردہ مجسٹریٹ تو ایسا نہیں کہہ سکتا۔ہاں احراریوں کا اپنا مجسٹریٹ ہو تو وہ بیشک یہ بات کہہ د چونچلے۔اٹھکیلیاں اُ