خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 234

سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود سمجھو۔۲۳۴ ہے کہ اُن بچوں کو لاؤ جن کے متعلق شریعت یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ مسجدوں میں آئیں۔جن لوگوں کے بچے آوارہ ہوا کرتے ہیں تم غور کر کے دیکھ لو ان میں سے اکثر ایسے ہی بچے ہوں گے جو بے نماز ہوں گے اور اکثر ایسے ہی والدین کے بچے ہوں گے جو اپنے بچوں کی نمازوں کی نگرانی نہیں کرتے ورنہ یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص پانچ وقت اللہ تعالیٰ کے حضور تذلل کرے اور پھر اس میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔پس بچوں کو مسجدوں میں لاؤ اور ان کو مسجدوں میں لانا اپنے آنے سے زیادہ اہم میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ تم آپ مسجد میں نہ آؤ بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ بچوں کا آنا تمہارے آنے کی نسبت مشکل ہے اس لئے اس کو اہمیت دو۔یہ کام صرف اُس شخص کا نہیں جسے مربی اطفال مقرر کیا گیا ہے بلکہ ہر شخص کا جسے کوئی بھی بچہ ایسا نظر آئے جو مسجد میں نہیں آتا فرض ہے کہ وہ اسے مسجد میں لانے کی کوشش کرے۔مگر اس طرح سے نہیں کہ ایک دکان پر بیٹھ گئے اور کہنا شروع کردیا کہ فلاں کے بچے نماز نہیں پڑھتے، پھر وہاں سے اُٹھ کر دوسری دکان پر گئے اور کہنا شروع کر دیا کہ فلاں کے بچے نماز نہیں پڑھتے، وہاں سے اُٹھے تو تیسری مجلس میں گئے اور وہاں بھی کہنا شروع کر دیا کہ فلاں کے بچے بالکل آوارہ ہو گئے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن کے عیوب بیان کئے جاتے ہیں وہ دوسرے شخص کے عیب بیان کرنے لگ جاتے ہیں اور اس طرح اصلاح کی بجائے خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔اصلاح کا طریق یہ ہے کہ جب تمہیں معلوم ہو کہ کسی کے بچے میں نقص ہے تو اپنے حلقہ کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری سے کہو اور پھر سمجھ لو کہ تمہارا کام ختم ہو گیا۔یا اگر سمجھو کہ جس شخص کے بچوں کے متعلق تمہیں شکایت ہے وہ حوصلے والا آدمی ہے اور وہ بات سن کر برداشت کرلے گا تو اُس سے کہہ دو لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کا کوئی عیب سن ہی نہیں سکتے وہ اگر بچے کو چوری کرتے بھی دیکھ لیں تو کہیں گے چونکہ دروازے سے داخل ہونا اس کیلئے خطرناک تھا اس لئے اس نے سیندھ لگانی شروع کردی تھی ورنہ اس نے چوری نہیں کی۔پس جس شخص کے متعلق تم سمجھو کہ وہ برداشت کی طاقت نہیں رکھتا اسے مت کہو اور جس شخص کے متعلق سمجھو کہ وہ بات برداشت کرلے گا اسے کہہ دو کہ اس کے بچے میں یہ نقص ہے اس کے ازالہ کی طرف توجہ کریں۔اگر اپنے حلقہ کے پریذیڈنٹ، سیکرٹری اور سرپرست کے علاوہ کسی چوتھے شخص کے پاس بھی کسی شخص کا