خطبات محمود (جلد 15) — Page 222
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۲۲۲ پندرہ سولہ سو آدمی رہ جاتے ہیں۔اٹھاون سو اور پندرہ سو تہتر کو ہو جاتے ہیں۔گویا اب قادیان کی احمدی آبادی سات ہزار تین سو افراد پر مشتمل ہے اور خدا تعالی کے فضل سے روز بروز بڑھنے والی آبادی ہے۔ان تمام لوگوں کی دعوت کا انتظام نہ تو خاص اہتمام سے کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مالی لحاظ سے سوائے خاص مالداروں کے لوگوں کو اتنی وسعت ہوتی ہے کہ اس قدر بار برداشت کر سکیں۔اسی وجہ سے یہاں دعوت کے دائرہ کو محدود کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ میں نے اپنے لڑکے ناصر احمد کے ولیمہ کے موقع پر منتظمین کو ہدایت دی تھی کہ وہ محلہ وار دعوت کیلئے نمائندوں کا انتخاب کرلیں، کچھ قریب والے دیہات کے احمدی بلالئے کچھ بتائی و مساکین اور دارالشیوخ کے لڑکے تھے، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے صحابہ اور صدرانجمن کے کارکنوں کو شامل کر کے ایک ہزار کے قریب افراد کا اندازہ کیا گیا اور کھانا جو تیار کیا گیا، وہ چودہ سو کا تھا کیونکہ کچھ کھلانے والے بھی ہوتے ہیں، انہوں نے بھی کھانا کھانا ہوتا ہے، کچھ گھروں میں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب کھانے کا وقت آیا اور کھانا دینے میں بہت دیر ہو گئی تو میں شور سن کر باہر آیا اس وقت مجھے بتایا گیا کہ سولہ سو کے قریب آدمی جمع ہوچکے ہیں اور ابھی سڑکیں آنے والے لوگوں سے بھری پڑی ہیں اور لوگ بڑی کثرت سے آرہے ہیں۔ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کھانا ان سب کو کس طرح کھلایا جاسکتا ہے۔میں نے دفتر والوں پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ یہ تمہارا قصور ہے۔تمہیں ٹکٹ جاری کرنے چاہیں تھے۔اب مجھ سے مشورہ لینے کا کیا فائدہ دس پندرہ منٹ کے بعد جب دوبارہ اندازہ لگایا گیا تو معلوم ہوا دو ہزار آدمی اکٹھا ہوچکا ہے۔آخر یہ تجویز کی گئی کہ صدر انجمن کے تمام کارکن، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض صحابہ اور بہت سے طالبعلم اٹھا لئے جائیں۔ان لوگوں کو اٹھا کر کہا گیا کہ آپ پھر کھانا کھالیں پہلے اور لوگوں کو کھانا کھلا لیا جائے۔اندازاً چھ سو کے قریب لوگ تھے جنہیں اٹھایا گیا لیکن پھر بھی اندازہ یہ تھا کہ جن لوگوں نے کھانا کھایا وہ سترہ اٹھارہ سو تھے۔جو چھ سو اٹھائے گئے انہیں رات کے بارہ بجے کے بعد کچھ چاول تیار کر کے تھوڑے تھوڑے کھلا دیئے گئے اور علاوہ ازیں دوسرے دن ان کی دعوت بھی کردی گئی۔مجھے زیادہ افسوس طالب علموں کا رہا کہ دوسرے دن انہوں نے رخصت پر چلے جانا تھا رات کو وہ یوں بھوکے رہے اور صبح سویرے بغیر دعوت میں شامل ہوئے چھٹیوں پر اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ا