خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 221

خطبات محمود ۲۲۱ سال ۱۹۳۴ء ريم - محسوس ہوتی ہے لوگوں کے سامنے بیان کروں۔رسول کریم ﷺ کی شادی جب حضرت حفصہ سے ہوئی، مجھے صحیح نام یاد نہیں غالب طور پر میرے ذہن میں اس وقت یہی ہے کہ حضرت حفصہ " ہی تھیں اس وقت بعض لوگوں کو ولیمہ پر بلایا گیا۔جب کھانا وغیرہ کھا چکے تو لوگ اسی جگہ بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔رسول کریم ال چاہتے تھے کہ لوگوں نے جب کھانا کھالیا ہے تو چلے جائیں اور اگر باتیں ہی کرنی ہوں تو باہر جاکر کریں، مگر آپ حیا کی وجہ سے ان سے کہہ نہ سکتے تھے کہ اُٹھ جاؤ۔آپ خاموش رہے اس پر خداتعالی نے یہ حکم نازل کیا کہ جب کسی کے ہاں کھانا کھانے جاؤ تو کھا کر وہاں بیٹھے نہ رہو بلکہ جب کھانا کھا چکو تو چلے آؤ ہے۔تب آپ نے اس حکم کو بیان کیا گو اس کے بیان کرتے وقت بھی آپ شرم محسوس کرتے تھے۔اب ہمارے لئے سب احکام قرآن مجید میں موجود ہیں اور گو ہمیں بھی بعض دفعہ شرم محسوس ہو مگر قرآنی احکام کے مطابق جماعت کی تربیت کے لحاظ سے بعض امور بیان کرنے ہی پڑتے ہیں۔وہ واقعہ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے میرے لڑکے سے کے ولیمہ کی دعوت ہے۔ہماری جماعت خدا تعالی کے فضل سے قادیان میں آٹھ ہزار کے خداتعالی قریب ہے۔یعنی ان گاؤں کے احمدیوں کو ملا کر جو ایک رنگ میں قادیان کا ہی حصہ ہیں اتنی آبادی ہے۔سات ہزار دوسو سے کچھ اوپر تو قادیان کی احمدی آبادی ہے اور باقی آٹھ سو ملحقہ دیہات کے احمدیوں کی۔آج سے چند سال پہلے یہاں پانچ اور چھ سو کی آبادی ہندو اور سکھوں کی تھی، دو سو چوہڑوں کی تھی، ہزار کے قریب غیر احمدیوں کی تھی۔ان سب کو اگر ملالیا جائے تو سترہ اٹھارہ سو آبادی بنتی ہے۔بہتر سو میں سے اٹھارہ سو نکال دیئے جائیں۔تو چون سو آبادی اُس وقت احمدیوں کی تھی۔اس کے بعد جو دوسرے لوگ تھے، ان میں سے کچھ احمدی ہو گئے۔چوہڑوں کی آبادی کم ہو گئی اور اس کا ایک اچھا خاصہ حصہ مسلمان ہو گیا۔اگر اس زیادتی کو ملالیا جائے تو احمدیوں کی تعداد چون سو سے اٹھاون سو بن جاتی ہے اسی عرصہ میں دو ہزار کے قریب آبادی احمدیوں کی اور بڑھ گئی کیونکہ اگر ہر سال سوا سو مکان کی اوسط رکھی جائے۔تو قریباً پانچ سو نیا مکان قادیان میں اور بنا ہے۔فی مکان اگر چار کس کی آبادی فرض کرلی جائے، گو بعض گھروں میں اس سے زیادہ آبادی ہوئی ہے تو دو ہزار کے قریب احمدی آبادی زیادہ ہوئی۔اگر کہا جائے کہ بعض نئے مکان ایسے لوگوں نے بنائے ہیں جو پہلے سے یہاں کرایہ کے مکانوں میں رہتے تھے اور ایسے لوگوں کی تعداد چار پانچ سو فرض کر لی جائے تو بھی اس تعداد کو منہا کر کے