خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 172

خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۳ امام جماعت کیلئے ہو۔ہماری مجالس سے باہر غیر احمدی بلکہ غیر مسلم بھی آکر بیٹھتے ہیں اور عام طور پر ہماری جماعت کو مہذب اور شائستہ سمجھا جاتا ہے۔ایسی حالت دیکھ کر ان لوگوں پر کیا اثر ہوتا ہوگا۔پھر انسان کو خود بھی عقل سے کام لینا چاہیئے۔بعض اوقات میں نے دیکھا ہے بیعت ہونے لگتی ہے اگر تو اس میں کوئی ایسی چیز ہو جو غیر معروف ہو کوئی حدیث ہو کہ پتہ نہ لگ سکے کس طرح کرنی چاہیے ، تو ایک بات بھی ہے لیکن قرآن کریم میں صراحت ہے کہ بیعت ہاتھ سے کی جاتی ہے ہے۔لیکن بعض لوگ بیعت کے وقت پاؤں پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔خلیفہ کی بیعت دراصل اس کی نہیں بلکہ مامور کی بیعت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مامور کے ہاتھ کوکی اپنا دایاں ہاتھ قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ جسے خدا کا ہاتھ ہونے کا اعزازی مقام عطا کیا گیا ہو اس کا قائمقام پاؤں کو سمجھ لینا کتنی بڑی ہتک ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ پیارے کی ہر چیز پیاری ہوتی ہے لیکن پھر بھی ہر چیز کا اپنا مقام ہے۔سر اپنی جگہ ہے اور پیر اپنی جگہ۔پھر بیعت کے بعض دوست پیٹھ کی طرف اگر بیٹھ جاتے ہیں۔اور بغل کے نیچے سے یا اوپر کی طرف سے ہاتھ نکالتے ہیں اس وقت کا نظارہ بیعت کا نظارہ نہیں معلوم ہوتا بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک ماہی گیر جال کے اندر ہاتھ ڈال کر مچھلی نکال رہا ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے ذکاوت حس دی ہے اور اسی کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور میں تو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ ایک مومن کس طرح سوچے سمجھے بغیر بیعت کے وقت پیٹھ پر یا پیر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ سکتا ہے۔ہاتھ تو اس کے ہاتھ پر ہونا چاہیئے جس کی بیعت کی جارہی ہو یا اس کے ہاتھ پر جس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں ہو۔بیعت کرنے والے کے بازوؤں وغیرہ پر بھی ہاتھ رکھا جاسکتا ہے مگر یہ کیا کہ بیعت کرنے والے کی پیٹھ پر یا اس کے پیر پر ہاتھ رکھ دیا جائے۔ہر انسان کو دیوانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ دبانا کیا ہوتا ہے۔دبانے میں کبھی دوران خون بند ہوتا ہے اور کبھی کھلتا ہے۔اور بند ہونے کے بعد کھلنے پر تیزی سے چلنے لگتا ہے۔اسی وجہ سے فالج کے مریض کو دبواتے ہیں تا خون کا دورہ تیز لیکن دبائے رکھنے سے خون کا دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ وہ سُن ہو جاتا ہے۔جیسے کمزور آدمی جس پہلو پر لیٹے وہ سُن ہو جاتا ہے اسی طرح ہاتھ رکھ دینے سے طاقت آنے اور آرام ملنے کی بجائے ضعف ہوتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے۔پھر میں یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص اتنی عقل نہ رکھتا ہو کہ وہ خیال کر سکے جب میں رقعہ بھیجوں گا تو ممکن ہے کوئی ضروری کام ہو۔