خطبات محمود (جلد 15) — Page 103
خطبات محمود ۱۰۳ سال ۱۹۳۴ کسی رَبُّ الْعَلَمِینَ کے تحت آجاتی ہیں اور اس طرح بظاہر دونوں ایک ہی چیزیں نظر آتی ہیں لیکن اصل بات یہ نہیں۔گو بظاہر تشابہہ تام ہے لیکن اختلاف بھی نمایاں ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ ایک کو دوسرے سے ممتاز نہیں کر سکتے۔اللہ تعالٰی نے رحمانیت کو رحیمیت کے ساتھ اکٹھا کیا ہے۔پہلی اور پچھلی صفات کو یعنی رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے مگر رحمن اور رحیم کو اکٹھا۔اور قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ رحمانیت اس دنیا تعلق رکھتی ہے اور رحیمیت کا اصل مقام اگلا جہان ہے اور یہ کہ رحمانیت کلام الہی سے وابستہ ہے۔جیسا کہ آتا ہے۔الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ یعنی رحمن وہ ہے جس نے قرآن سکھایا۔پھر یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اس کا تعلق عرش سے ہے۔رحمانیت دراصل ربوبیت کے اس مقام پیدا ہوتی ہے جس وقت اس کے نتیجہ میں رحیمیت پیدا ہو۔ماں باپ بچہ کو بغیر خیال کے پرورش کرتے ہیں۔کسی ماں کو جیسی چاہو قسم دے کر پوچھ لو کہ بچہ کو کیوں دودھ پلاتی ہو۔قطعا کوئی نیک یا بد خیال اس کے دل میں نہیں ہوتا یہ ربوبیت ہے۔جس وقت طبیعی تقاضوں سے پرورش کی جائے وہ ربوبیت ہوتی ہے لیکن رحمانیت اس احسان کو کہتے ہیں جس کی غرض یہ ہو کہ فلاں بڑا ہو کر ایسے اعلیٰ اور نیک کام کرے جن کے نتیجہ میں رحیمیت پیدا ہو۔ایک شخص کسی بھوکے یا مصیبت زدہ کو روٹی دیتا ہے۔یہ ربوبیت ہے۔مگر دوسرا ایک بچے کو پالتا ہے، اس خیال سے کہ اسے قرآن کریم حفظ کرائے اور اس قابل بنادے کہ وہ دین کی خدمت کرسکے، یہ رحمانیت ہے مگر بچوں، ماں، باپ، بھائیوں، رشتہ داروں یا دوسرے لوگوں سے رافت اور ہمدردی کا سلوک ربوبیت ہے۔بچہ کو پالنا بے شک ربوبیت ہے مگر جب بچہ جوان ہو جائے اور اس قابل ہو کہ ذاتی اور انفرادی لحاظ سے کام کر سکے، اُس وقت اُسے خادم دین بنانے کیلئے کچھ خرچ کرنا رحمانیت میں داخل ہو گا۔مثلاً ایک بچہ جوان ہوتا ہے اور والدین اسے جہاد کیلئے گھوڑا یا تلوار یا اور سامان لے کر دیتے ہیں یہ رحمانیت ہے۔اسلام سے ایک عورت کا مشہور قصہ میں نے پہلے بھی سنایا ہے۔ایک مسلمان عورت خنساء نامی تھی۔ایک جنگ میں مسلمانوں کے بالمقابل دشمن کثیر تعداد میں تھا اور سامان بھی مسلمانوں کے پاس بہت کم تھا۔مدینہ سے کمک منگوائی گئی تھی مگر وہ بھی نہ پہنچی تھی اور خیال تھا کہ اگر آج مسلمان قائم نہ رہ سکے تو لازماً شکست کھا جائیں گے۔خنساء کے چار بیٹے تھے۔اُس نے انہیں بلایا اور کہا کہ دیکھو بیٹو' میں چھوٹی عمر میں ہی بیوہ ہو گئی تھی، تمہارے باپ نے میرے تاریخ