خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 96

خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۳۴ لوگوں کی طرف سے ویسا ہی معاملہ ہو جاتا ہے جو اونٹنی کو پکڑنے والوں نے کیا تھا۔یعنی : ہم کسی اونٹنی کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو بعض تم میں سے ہو ہو کر کے ایسا شور مچاتے ہیں کہ وہ قریب آنے کے بجائے اور بھاگتی ہے اور اگر اسے روکا نہ جائے تو وہ بھیڑیوں اور چیتوں کے قبضہ میں جاکر ماری جائے۔پس رسول کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ایسے لوگوں سے میں بھی یہی کہتا ہوں کہ تمہاری مہربانی سے میں نے بھر پایا مزید مہربانی مجھ پر کرو مجھے اور میری اونٹنی کو چھوڑ دو اس کا پکڑنا خدا کے فضل سے ہمیں آتا ہے ہاں اگر تم بھی اس میں مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہی ہے کہ عفو نرمی، محبت کا گھاس دکھا کر نہ کہ لٹھ کے ذریعہ۔یہ کیا طریق ہے کہ ایک طرف تو تبلیغ کرنے جاتے ہو اور دوسری طرف اگر کوئی تمہارے پاس آجائے تو اُسے دھمکاتے ہو۔اس کی مثال میں مجھے بچپن کی سنی ہوئی ایک کہانی یاد آگئی۔کہتے ہیں ایک امیر آدمی گزر رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک بچہ ہاتھ میں روٹی پکڑے کھا رہا ہے۔اس نے روٹی ایک کتے کو دکھائی کتے نے سمجھا مجھے دینا چاہتا ہے اس لئے وہ قریب گیا لیکن جب وہ قریب پہنچا تو بچہ نے زور کے ساتھ اس کے ایک اینٹ ماری اور کتا چیختا ہوا بھاگا۔امیر آدمی کو یہ حرکت بہت ناگوار گزری اور اس نے ایک پونڈ جیب سے نکال کر بچہ کی طرف گیا۔بچہ نے سمجھا شاید میری یہ حرکت اسے بہت پسند آئی ہے اور انعام دینا چاہتا ہے لیکن جب وہ قریب پہنچا تو اُس نے زور سے ایک تھپڑ اُس کے منہ پر مارا۔اس پر بچہ نے پوچھا کہ میں نے کیا قصور کیا تھا کہ آپ نے مجھے اس قدر زور سے مارا۔اُس نے جواب دیا کہ کتے نے تمہارا کیا قصور کیا تھا کہ تم نے اس قدر زور سے اُسے مارا۔پس تبلیغ کر کے پہلے بلانا اور پھر دھمکانا نہایت ہی نامناسب حرکت ہے۔تبلیغ کرنا گویا قریب بلانا ہے اور ظاہر ہے کہ قریب بلانا اور پھر دھمکانا دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔پس پیار، محبت اور شفقت سے کام لو اور ایسے لوگ خواہ منافق ہوں یا بے ایمان ان کی مطلقاً پرواہ نہ کرو اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار نہ کرو۔کچھ عرصہ ہوا یہاں ایک ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔جس پر یہ سوال اٹھا کہ احمدی کی مدد کرنی چاہیئے۔اس پر میں نے کہا کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم بھی اس بد اخلاقی میں اس کے ساتھ وابستہ ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس سے احمدیت بدنام ہوتی ہے۔ہم خدا کے فضل سے نہ کسی حکومت - سے ڈرتے ہیں اور نہ بادشاہوں اور ان کی فوجوں سے اور نہ ہی کسی مخالف قوم سے۔اگر ہم۔