خطبات محمود (جلد 15) — Page 474
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء نے یہ پہلی سیڑھی تیار کی ہے تاکہ آئندہ جن حالات میں سے جماعت کو گزرنا پڑے، ان کیلئے آج ہی تیاری شروع کی جاسکے۔میں نے ساری تجاویز کو کھول کر بیان کر دیا ہے سوائے ایک دو باتوں کے جن کا چھپاتا اس لئے ضروری نہ تھا کہ وہ زیادہ اہم تھیں بلکہ اس لئے کہ اگر ان کو ظاہر کر دیا جائے تو ان کا توڑ دشمن آسانی سے کر سکتا ہے اور وہ کام جو تھوڑے خرچ سے ہو سکتا ہے، اظہار کردینے کی صورت میں اس کیلئے زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ا وہ باتیں بھی میں نے ان ممبروں کو بتادی ہیں جن کے سپرد وہ کی گئی ہیں۔باوجود اس اظہار کے جو میں نے کیا ہے سکیم کے ہر پہلو میں بعض امور کو میں نے مد نظر رکھا ہے جن کی حقیقت کو ظاہر نہیں کیا۔فوائد اور اغراض کے بعض پہلو میں نے بتائے ہیں لیکن بعض نہیں بتائے۔جس طرح طبیب ایک دوائی دیتا ہے اور اس کا اتنا ہی فائدہ بیان کرتا ہے جتنا مریض کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ایک دوائی قبض کیلئے بھی مفید ہوتی ہے، کیلئے اور جگر کیلئے معدة بھی، وہی نزلہ اور زکام کیلئے بھی مفید ہوتی ہے۔طبیب کے پاس ایک نزلہ کا مریض آتا ہے اور وہ اسے دوائی دے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ نزلہ کیلئے مفید ہے یہ ضروری نہیں کہ وہ اسے یہ بھی بتائے کہ یہ جگر اور معدہ کیلئے بھی مفید ہے یہ باتیں وہ معدہ یا جگر کے مریض سے کہے گا۔اسی طرح آئندہ کے مصالح کو بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی لیکن وہ مکمل عمارت میرے ذہن میں ہے جس کی حفاظت کیلئے یہ تمام تجاویز کی گئی ہیں۔اور وہ حملے بھی میرے ذہن میں ہیں جو ابھی کئے نہیں گئے مگر دشمن کرے گا یا کر سکتا ہے اور دفاع کی تدابیر بھی موجود ہیں اور اسی کے سلسلہ میں میں نے یہ تجاویز پیش کی ہیں۔کسی بات کو بالکل آخر وقت پر اختیار کرنا عقلمندی کی علامت نہیں ہوتا۔جو شخص بارش شروع ہونے کے بعد اس سے بچنے کیلئے عمارت بنائے جو آگ لگنے کے بعد کنواں کھودے کہ اس سے پانی لے کر آگ بجھائے اور جو بھوک لگنے کے بعد غلہ ہونے کیلئے جائے اس سے زیادہ احمق اور کوئی نہیں ہو سکتا۔بارش سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے سے گھر تیار کیا جائے اور بھوک سے محفوظ ہونے پہلے غلہ ہونا ضروری ہے اور جو شخص اپنے گھر کو آگ سے بچانا چاہتا ہے اس ضروری ہے کہ پانی کے پاس رہے تا آگ بجھا سکے۔پس ضروری تھا کہ میں ان امور کو مد نظر رکھتا جو موجودہ جدوجہد کے لازمی نتائج ہیں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ دشمن بھی یہ نہیں جانتا کہ اس کی تحریکات کے کیا نتائج پیدا ہونے