خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 462

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء زیادہ خلیفے نہیں ہو سکتے لیکن اگر خلیفہ کے ماتحت زیادہ کام کرنے والے ہوں تو اس تک گو معاملات پھر بھی آئیں گے لیکن وہ کام کرنے کے گر بتائے گا اور کام دوسرے کرلیں گے۔موجودہ حالات میں کام چل ہی نہیں سکتا جب تک زائد آدمی کام کرنے والے نہ ہوں۔مگر بجٹ پہلے ہی پورا نہیں ہوتا تو اور آدمی کس طرح رکھے جاسکتے ہیں اس لئے میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ بیسیوں آدمی جو پنشن لیتے ہیں اور گھروں میں بیٹھے ہیں، خدا نے ان کو موقع دیا ہے کہ چھوٹی سرکار سے پنشن لیں اور بڑی سرکار کا کام کریں یعنی دین کی خدمت کریں اس سے اچھی بات ان کیلئے اور کیا ہو سکتی ہے۔بیسیوں ایسے لوگ ہیں جو پینشن لیتے ہیں اور جنہیں اپنے گھروں میں کوئی کام نہیں ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ خدمت دین آپ کو وقف کریں تا ان سکیموں کے سلسلہ میں ان سے کام لیا جائے یا جو مناسب ہوں انہیں نگرانی کا کام سپرد کیا جائے۔ورنہ اگر نگرانی کا انتظام نہ کیا گیا تو عملی رنگ میں نتیجہ اچھا نہ نکل سکے گا۔اپنے تیرھواں مطالبہ یہ ہے کہ باہر کے دوست اپنے بچوں کو قادیان کے ہائی سکول یا مدرسہ احمدیہ میں سے جس میں چاہیں تعلیم کیلئے بھیجیں۔میں عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے مرکزی سکولوں میں باہر کے دوست کم بچے بھیج رہے ہیں۔اس کی ایک وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ باہر سکول بہت کھل گئے ہیں۔دوسرے پہلے باہر اتنی جماعتیں نہ تھیں جتنی اب ہیں۔اب احمدیوں کے بچے اکٹھے ان سکولوں میں چلے جاتے ہیں اور انہیں اس قدر تکلیف نہیں ہوتی جتنی پہلے ہوتی تھی لیکن اس طرح ہماری جماعت کے بچوں کی تربیت ایسی نہیں ہوتی جیسی کہ ہم چاہتے ہیں۔میرا تجربہ یہ ہے کہ یہاں پڑھنے والے لڑکوں میں سے بعض جن کی پوری طرح اصلاح نہ ہوئی وہ بھی اِلا مَاشَاءَ اللهُ جب قربانی کا موقع آیا تو یکدم دین کی خدمت کی طرف لوٹے اور اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کر دیا۔یہ ان کی قادیان کی رہائش کا ہی اثر ہوتا ہے۔ایک لڑکے کو میں نے آوارگی کی وجہ سے قادیان سے کئی بار نکلوایا لیکن جب وہ اپنے وطن میں گیا اور اس علاقہ کے لوگ جب آئیں تو یہی کہیں کہ وہ خدمت دین کے جوش اور شوق کی وجہ سے ہمارے لئے نمونہ ہے۔اسے رسل کی بیماری ہو گئی تھی حتی کہ اسے خون آنے لگ گیا مگر باوجود ایسی حالت کے تبلیغ میں سرگرمی سے مصروف رہتا اور لوگ کہتے اس کا نمونہ بہت اعلیٰ درجہ کا ہے۔