خطبات محمود (جلد 15) — Page 461
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء افسوس وعدوں کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہ کی۔جن صاحب نے ایک لاکھ کا وعدہ کیا تھا وہ ایک سو بھی مہیا نہ کر سکے۔سب سے زیادہ حصہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے لیا تھا انہوں نے دو تین ہزار کے قریب رقم دی تھی۔باقی لوگوں نے تھوڑی تھوڑی رقم دی اور پھر خاموش ہو گئے اور پانچ چھ سال سے اس میں کوئی آمد نہیں ہوئی۔میں اب پھر جماعت کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس رقم کا جمع کرلینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔میاں احمد دین صاحب زرگر کشمیر فنڈ کیلئے پھرتے رہتے ہیں۔کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنا خرچ لیتے ہیں۔بیشک ان کو خرچ دیا جاتا ہے کیونکہ کام کرنے والے کو خرچ کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر میں نے دیکھا ہے جہاں کے متعلق مقامی لوگ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں مل سکتا، وہاں سے بھی وہ چالیس پچاس روپے کشمیر ریلیف فنڈ میں جمع کر لیتے ہیں۔اور پھر لوگ لکھتے ہیں کہ ان کو وصول کرنے کا ڈھنگ آتا ہے۔اس سے معلوم ہوا وصول کرنے کیلئے ڈھنگ کی ضرورت ہے، یہ نہیں کہ ملتا نہیں۔اگر ایک ہزار آدمی بھی اس بات کا تہیہ کرلے کہ ریز روفنڈ جمع کرنا ہے اور ہر ایک کی رقم دو سو بھی رکھ لی جائے تو بہت بڑی رقم ہر سال جمع ہو سکتی ہے اور پھر اس کی آمد سے ہنگامی کام بآسانی کئے جاسکتے ہیں اور جب کوئی ہنگامی کام نہ ہو تو آمد بھی اصل رقم میں ملائی جاسکتی ہے۔جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک ہنگامی کاموں کیلئے بہت بڑی رقم خلیفہ کے ماتحت نہ ہو کبھی ایسے کام جو سلسلہ کی وسعت اور عظمت کو قائم کریں نہیں ہو سکتے۔بارھواں مطالبہ یہ ہے کہ جب یہ کام کئے جائیں گے تو مرکز میں کام بڑھے گا۔کئی باہر کے لوگ جو کہتے ہیں کہ یہاں کارکنوں کو کم کام کرنا پڑتا ہے۔ان سے میں کہا کرتا ہوں کہ خود یہاں آکر کام کرو اور جب کوئی اگر کام کرتا ہے تو پھر کہتا ہے یہاں تو بڑا کام کرنا پڑتا ہے۔کل ہی خانصاحب فرزند علی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ جتنا کام نظارت امور عامہ کا کرنا پڑتا ہے میں نے اپنی ملازمت کے پندرہ یا بیس سال کہا) آخری سالوں میں اتنا زیادہ کام نہیں کیا۔تو کام تو یہاں ہے اور بہت بڑا کام ہے۔میں صبح اپنے دفتر میں آکر کام شروع کرتا ہوں، رقعے اور ڈاک اور دفتروں کے کاغذات دیکھتا ہوں، پھر ملاقات کرنے والوں سے ملاقات کرتا ہوں، اسی میں دفتر کے اوقات کے چھ سات گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں اور کسی کام کیلئے کوئی وقت نہیں بچتا۔پھر لوگ امید رکھتے ہیں کہ میں سکیمیں پیش کروں، ان کی نگرانی کروں ، تقاریر کروں اور تصانیف بھی کروں: اس میں شبہ نہیں کہ خلیفہ ایک ہی ہو سکتا ہے ناظروں کی طرح