خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 416

خطبات محمود سال عورتوں کو ساتھ ملائے بغیر نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ میں نے کہا تھا کہ مسجد کے پہلو میں جو جگہ عورتوں کیلئے پہلے ہوتی تھی آج وہ ان کیلئے پھر تیار کردی جائے تا وہ سُن لیں کہ سلسلہ کو قربانیوں کیلئے ان کی امداد کی کس قدر ضرورت ہے۔اگر قربانیاں نہ کرسکنے کی وجہ سے سلسلہ کی ترقی میں روک پیدا ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری عورتوں پر ہے۔بیسیوں مرد ایسے ہیں جن میں سے میں بھی ایک ہوں کہ عورتوں اور بچوں کے اخراجات پورے کرنے کے بعد جیب بالکل خالی ہو جاتی ہے اور حالت گر زرمے طلبی سخن دریں است" کی مصداق ہو جاتی ہے وہ اگر قربانی کا ارادہ بھی کریں تو کچھ نہیں کرسکتے۔کیونکہ ان کے پاس ہوتا ہی کچھ نہیں۔عام طور پر زیادہ خرچ عورتوں اور بچوں کا ہی ہے۔سوائے کسی ایسے بخیل کے جو اِن کو بھوکا رکھتا ہو یا ان کو آرام پہنچانے کا خیال نہیں رکھتا اور ایسے شخص سے ہم کیا امید رکھ سکتے ہیں۔پس ہم قربانی کیلئے اس بات کے سخت محتاج ہیں کہ عورتیں ہمارا ساتھ دیں وگرنہ ہماری قربانی لفظی قربانی رہ جائے گی اس لئے میں عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں کہ ہ قربانیوں کی طرف توجہ کریں اور ان امور میں جو میں آگے بیان کروں گا مردوں کا ہاتھ بٹائیں۔ان کے تعاون کے بغیر جو شخص قربانی کرنا چاہے گا وہ زبردستی ان کے اخراجات کو کم کرے گا اور اس طرح ایک تو وہ ثواب سے محروم رہ جائیں گی اور دوسرے گھر میں فساد رہے گا۔ہماری مستورات کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ان سے پہلے ایسی مستورات گزری ہیں جنہوں نے ایسی ایسی قربانیاں کیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔حضرت عائشہ " ہی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بہت صدقات کرتی تھیں اور اس وجہ سے ایک دفعہ ان کے بھانجے سے غلطی ہوئی اور اس نے کہا کہ ہماری خالہ یونہی روپیہ اڑا دیتی ہیں اور وارثوں کا کوئی خیال نہیں رکھتیں حالانکہ انکے بھی حقوق شریعت نے رکھے ہیں۔حضرت عائشہ نے جب یہ سنا تو ان کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے قسم کھائی کہ اس سے کبھی بات نہ کروں گی اور اگر کروں تو مجھ پر غلاموں کا وہ وہ آزاد کرنا فرض ہو گا۔لوگوں نے اسے ملامت کی کہ تم نے ایسا کیوں کہا ہے، معافی مانگو۔معافی مانگنے گئے مگر حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہوئی ہے اس لئے ہرگز بات نہ کروں گی۔صحابہ نے یہ کیا کہ کئی آدمی اکٹھے ہو کر حضرت عائشہ کے دروازے پر گئے اور ان کے بھانجے کو بھی ساتھ لے گئے اور اس طرح اجازت مانگی کہ کیا ہم اندر آجائیں اور اسے سکھا دیا کہ جاکر اپنی خالہ سے لپٹ جانا۔حضرت عائشہ نے اجازت دے دی اور کہا آجاؤ۔وہ