خطبات محمود (جلد 15) — Page 417
خطبات محمود سال رحم اندر داخل ہو گئے اور ان کے ساتھ ہی وہ بھانجا بھی چلا گیا اور جاکر خالہ سے لیٹ گیا۔معافی مانگی حضرت عائشہ نے معاف کردیا مگر فرمایا کہ میں نے غلاموں کی آزادی کا وعدہ کیا تھا اور کوئی حد نہ مقرر کی تھی۔اب مجھے ساری عمر ہی غلام آزاد کرنے پڑیں گے۔چنانچہ آپ ساری عمر خرید خرید کر غلاموں کو آزاد کرتی رہیں کیونکہ آپ کو ہمیشہ شک رہا کہ شاید میرا عہد پورا ہوا یا نہیں ہے۔ماں کیلئے سب سے بڑی قربانی بچے کی ہوتی ہے مگر اس کیلئے بھی ایک عورت کی مثال پیش کرتا ہوں جو پہلے شدید کافرہ تھی۔ایرانیوں کے ساتھ ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت شکست ہوئی وہ اس کا ازالہ کرنے کیلئے پھر جمع ہوئے مگر پھر بھی ایرانی بوجہ کثرت تعداد اور فراوانی اسباب کے غالب ہوتے نظر آرہے تھے۔ہاتھیوں کے ریلے کا مقابلہ بھی ان سے سے ہوتا تھا۔چنانچہ آخری دن کی جنگ میں بہت سے صحابہ مارے گئے تھے۔آخر مشکل نے مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ اگلے روز آخری اور فیصلہ کن جنگ کی جائے۔خنساء نام ایک عورت جو بڑی شاعرہ اور ادیب گزری ہے ان کے چار بیٹے تھے انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو بلایا اور کہا کہ میرے بچو! میرے تم پر بہت سے حقوق ہیں، تمہارا باپ جواری تھا میں نے چار دفعہ اپنے بھائی سے جائداد تقسیم کرا کر اسے دی مگر اس نے چاروں دفعہ جوئے میں برباد کر دی گویا نہ صرف یہ کہ اس کی اپنی جائداد کوئی نہ تھی بلکہ اس میرے بھائی کی جائداد کو بھی لٹادیا مگر اس کے باوجود اس کی موت کے بعد میں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی اور اس کے خاندان کو بٹہ نہیں لگایا اور بڑی محنت سے تمہاری پرورش کی۔آج اس حق کو یاد کرا کر میں تم سے مطالبہ کرتی ہوں کہ تم یا تو جنگ میں فتح حاصل کر کے آنا اور یا مارے جانا۔ناکامی کی حالت میں مجھے واپس آکر منہ نہ دکھانا وگرنہ میں اپنا یہ حق تمہیں نہ بخشوں گی ہے۔اس جنگ کی تفاصیل ایسی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ہر مسلمان اپنی جان کو میدانِ جنگ میں اس طرح پھینک رہا تھا جس طرح کھیل کے میدان میں فٹ بال پھینکا جاتا ہے۔عین دوپہر کے وقت جب معرکہ جنگ نہایت شدت سے ہو رہا تھا خنساء آئیں، انہوں نے دیکھا کہ اس معرکہ سے بہادروں کا زندہ واپس آنا مشکل ہے انہوں نے اس وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے خدا! میں نے اپنے بچے دین کیلئے قربان کر دیئے ہیں، اب تو ہی ان کی حفاظت کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ جنگ میں فتح ہو گئی اور ان کے بچے بھی زندہ واپس آگئے۔اسی طرح ہندہ کی مثال ہے۔اس نے اور اس کے خاوند