خطبات محمود (جلد 15) — Page 392
خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۳۴ء کہ تم نے قربانی کا وعدہ کیا ہے روزانہ رات کو نو بجے سے صبح ساڑھے پانچ بجے تک کھڑے رہا کرو تو بالکل ممکن ہے وہ اس قربانی کیلئے تیار نہ ہو لیکن اگر میں یہ کہوں کہ جاؤ اور کود کر مرجاؤ تو ایک منٹ بلکہ ایک لحظہ کیلئے بھی وہ اس سے انکار نہیں کرے گا۔یا مثلاً میں کہوں کہ چھ بجے میرے دفتر میں آؤ اور خاموش بیٹھے رہو اور شام کو اپنے گھر واپس چلے جایا کرو تو آٹھویں دن ہی مجھے رقعے آنے شروع ہو جائیں کہ میں بریکار بیٹھا ہوں مجھے کام نہیں، کوئی کام بتائیے۔حالانکہ حقیقی قربانی وہی ہوتی ہے جو خواہ قلیل ہو مگر انسان استقلال سے اسے سرانجام دے اور بغیر وجہ پوچھے اسے کرتا چلا جائے۔اگر قربانی کے وقت اس کی غرض اور مقصد پوچھنے کی بھی ضرورت محسوس ہو تو پھر بیعت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ہر عقلمند آدمی اپنے مفید مطلب کام کیا ہی کرتا ہے اور ایسا نادان تو کوئی ہوتا ہے جو اپنے لئے مفید کام بھی کرنے کو تیار نہ ہو۔مثل مشہور ہے کہ کوئی کشمیری جیٹھ، ہاڑ کے دنوں میں دھوپ میں بیٹھا تھا، ایک شخص پاس سے گزرا تو وہ اسے دیکھ کر کہنے لگا میاں ذرا سائے میں آجاؤ ، دھوپ میں کیوں جل رہے ہو۔وہ کشمیری کہنے لگا میں سائے میں تو آجاتا ہوں مگر مجھے کیا دو گے۔اس نے کہا اگر تمہیں اپنے نفس کیلئے سائے کی ضرورت نہیں تو بیشک دھوپ میں مرو، مجھے تمہیں انعام دینے کی کیا ضرورت ہے۔اس قسم کے نادان تو شاذونادر ہوتے ہیں ورنہ کون ایسا انسان ہے جسے کہا جائے میاں چلو فلاں جگہ روپے دبے پڑے ہیں اور وہ نہ جائے یا کوئی بات اسے مفید نظر آئے اور وہ نہ کرے۔پس جو باتیں عام طور پر عقل میں آسکتی ہیں ان کیلئے کسی بیعت کی ضرورت نہیں، بیعت اس لئے ہوتی ہے کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تب بھی اس پر عمل کیا جائے، ہاں یہ ضروری شرط ہے کہ وہ نص قرآن کے خلاف نہ ہو۔اس کے علاوہ جو بات بھی خلیفہ وقت کے بیعت کرنے والے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ خواہ اس کی غرض سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس پر عمل کرے اور خواہ سو سال تک اسے کسی بات کی سمجھ نہیں آتی اس کا حق نہیں کہ وہ انحراف کرے بلکہ اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ امام کی ہدایت کے ماتحت کام کرے۔پس پہلا امر ہر انسان کے سامنے یہ ہونا چاہیئے کہ ہم نے فلاں کی بیعت کرنی ہے یا نہیں۔اگر بیعت کرلی گئی ہے تو پھر کوئی عُذر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ہاں انسان مشورہ دے سکتا ہے مگر مشورہ دینا اور چیز ہے، اعتراض کرنا اور چیز اور عمل میں کوتاہی کرنا اور چیز ہے۔پس میں اس سکیم کے پیش کرنے سے پہلے یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میری سکیم میں ایسی ہی