خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 348

خطبات محمود ۳۴۸ سال ۱۹۴۴ء ہیں۔اور اس کا ثبوت یہ دیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ اپنی جماعت کے مقدمات سنتے ہیں۔ہمارے سیکرٹری نے کہا کہ اس میں کیا غضب ہو گیا گورنمنٹ تو آپ یہ اعلان کرتی رہتی ہے کہ لوگوں کو اپنے مقدمات آپ فیصلہ کرنے چاہئیں، عدالتوں میں نہ آنا چاہیئے۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو گورنمنٹ یہ کہتی ہے کہ اپنے مقدمات کا گھروں میں فیصلہ کرنا چاہیے اور دوسری طرف وہ جماعت جو اپنے مقدمات کا اپنے گھروں میں فیصلہ کرتی ہے، اس کے متعلق کہتی ہے کہ وہ پیرائل گورنمنٹ قائم کر رہی ہے۔یا تو گورنمنٹ یہ نہ کہتی کہ اپنے گھروں میں مقدمات کا فیصلہ کیا کرو۔یا پھر اس کی اجازت کے ماتحت گھروں میں جھگڑوں کا تصفیہ کرنے والوں پر یہ الزام نہیں لگانا چاہیئے۔اگر یہ کہا جائے کہ ہم قابل دست اندازی پولیس والے فوجداری مقدمات سنتے ہیں تو یہ صریح غلط اور خلاف واقعہ ہے۔ہاں ہم یہ مشورہ ضرور دیتے ہیں کہ ہر جھگڑے کے متعلق سلسلہ کے کارکنوں سے مشورہ کرلو جو پولیس کے دائرہ میں آتے ہیں، ان کو پولیس میں لے جانے کی وہ ہدایت کریں گے اور جن مقدمات کا گھر میں فیصلہ کرلینے کی قانون اجازت دیتا ہے، ان کا وہ گھر میں فیصلہ کردیں گے۔اور یہ جُرم ہم ہی نہیں کرتے، سب اس مجرم کے مرتکب ہیں حتی کہ بڑے سے بڑے انگریز افسر بھی اس سے بچے ہوئے نہیں۔بچے گھروں میں بلا پوچھے چیز اٹھا لیتے ہیں لفظا یہ چوری ہے، نوکر کوئی چھوٹی موٹی چیز اٹھالیتا ہے یہ بھی چوری ہے مگر کوئی انگریز افسر بھی ایسا ہے جو یہ کہے کہ وہ اس پر پولیس کے ذریعہ کارروائی کرواتا ہے۔عام طور پر ایسے واقعات میں لوگ نوکروں کو جرمانہ کر دیتے ہیں اور بچوں کے ذرا کان کھینچ کر چھوڑ دیتے ہیں۔اسی قسم کے مقدمات اور وہ بھی چوری کے نہیں بلکہ بچوں وغیرہ کی عام مار پیٹ کے مقدمات ہماری جماعت میں بھی سن لئے جاتے ہیں۔پھر نہ معلوم اس کا نام متوازی حکومت کس طرح رکھا گیا اور کس محاورہ کے مطابق رکھا گیا۔اگر یہ الزام ہم پر درست ہے تو ہر انگریز جس کا لڑکا بغیر پوچھے چاکلیٹ کھا گیا ہو یا ہر انگریز جس کے باورچی نے اس کی اجازت کے بغیر ایک انڈے کا استعمال کرلیا ہو اور اس نے اسے پولیس میں نہ بھیجا ہو ، متوازی حکومت قائم کرنے والا قرار پائے گا اور اس نئی اصطلاح کے ہر گھر میں ہی ایک متوازی حکومت کا پتہ چل جائے گا۔اور شاید نیزوں والی خبر کے اصول پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو یہ تار دینے کا حق حاصل ہو جائے کہ ہندوستان میں ایک گھری سازش کا انکشاف ہوا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ اندر ہی اندر ہزاروں، حکومت کو الٹنے والی ماتحت