خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 336

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء دق کر رہے ہوں۔میں حلفیہ شہادت دینے کیلئے تیار ہوں کہ میں نے ان دو سرکاری افسروں سے جو کچھ سنا وہی بیان کیا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان افسروں میں سے جس نے بھی جھوٹ بولا ہو گا گورنمنٹ اس سے پوچھے یا نہ پوچھے، خدا تعالیٰ اس سے ضرور پوچھے گا۔اسی سلسلہ میں ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ احمدیوں نے وہاں شعر پڑھے اور احرار کے جلسہ میں شورش پیدا کرنی چاہی۔جس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر احمدی زمیندار بھی بکثرت آتے ہیں اور ہمیشہ پنجابی ڈھولے فراغت کے وقتوں میں پڑھتے رہتے ہیں۔ایسے کچھ دوست اسی محلہ میں ایک احمدی کے مکان میں کچھ ڈھولے پڑھ رہے تھے جس پر پولیس نے ان کو روکا اور گو ان کا روکنا سراسر نا جائز تھا، وہ رک گئے۔مگر اس کا نام یہ رکھا گیا کہ احمدیوں نے جلسہ گاہ کے اندر یا قریب شعر پڑھ پڑھ کر جلسہ کو خراب کرنا چاہا۔چوتھا واقعہ یہ ہے کہ یہاں کی پولیس کی طرف سے یہ رپورٹ کی گئی کہ ایک سرکاری افسر کی ڈیوٹی میں احمدیوں کی طرف سے رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔اگر ایسا ہو تو واقع میں یہ ایک ایسا مجرم ہے جس پر سزا ملنی چاہیے کیونکہ اگر اس امر کی اجازت دے دی جائے تو حکومت کا کام ہی معطل ہو جائے۔ایک پولیس میں پہرہ دینے لگے اور کوئی اسے روک دے تو مال و جان کی حفاظت کس طرح ہو، اگر ایک پوسٹ مین کو ڈاک کی تقسیم سے روکا جائے تو ڈاک کے رکنے سے تجارت اور دیگر کام بھی رُک جائیں، اگر کوئی مجسٹریٹ کو عدالت میں جانے سے روک دے تو انصاف کا محکمہ باطل ہو جائے ، غرض یہ قانون ضروری ہے کہ سرکاری ملازموں کو ان کے فرض منصبی سے کوئی نہ روکے اور جو روکے اسے سزاد دی جائے۔پس اگر یہ جرم کسی احمدی پر ثابت ہو تو یقیناً ہم خود اس کے خلاف کارروائی کریں لیکن یہ واقعہ سرکاری کام میں روک پیدا کرنے کا گزشتہ واقعات کی طرح اپنی نوعیت میں بالکل نرالا ہے۔واقعہ یوں ہے کہ ڈاک خانہ کا ایک کلرک جس کا احراریوں سے بھی تعلق تھا اور احمدیوں سے بھی اسے اس کے ایک احمدی دوست نے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں کہ ہم سے بھی تعلق رکھتے ہو اور احراریوں سے بھی۔بس اس قدر بات کا کہنا ایک سرکاری افسر کے فرض منصبی میں رکاوٹ ڈالنا قرار دیا گیا۔گویا احراریوں سے ملنا ڈاک خانہ کے فرائض میں سے ایک فرض ہے اور بابو کا یہ کام ہے کہ جہاں وہ منی آرڈر کرے، وہاں احراریوں سے بھی ملے۔اس رپورٹ پر پولیس دوڑی چلی آئی اور گھبراہٹ کا ایک عالم طاری ہو گیا۔ہم الگ حیران کہ خدایا یہ کیا مجرم ہو گیا۔