خطبات محمود (جلد 15) — Page 27
خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۳۴ء لاہور صوبہ پنجاب کا دارالحکومت ہے، تمام محکموں کے اعلیٰ دفاتر یہاں ہیں لہذا یہاں تبلیغ کی بالخصوص بڑی ضرورت ہے۔یہاں کے دوستوں کو میں نے اس فرض کی طرف بارہا توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھیں۔میں چاہتا ہوں کہ یہاں تبلیغ کسی اصول کے ماتحت ہو بغیر اصول کے تو خواہ کوئی کام کیا جائے اس سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔اصول کا مطلب یہ ہے کہ خاص خاص گروہوں میں خاص خاص طریق پر تبلیغ کی جائے۔اس وقت یہاں تبلیغ اس طرح ہوتی ہے کہ کچھ ٹریکٹ تقسیم کردیئے اور اگر کوئی شخص کبھی سوال پوچھنے والا مل گیا تو اُسے تبلیغ کردی۔تبلیغ کے یہ طریق بھی اچھے ہیں لیکن جب غیر خود سوال پوچھنے کیلئے آئے گا تو اس کا ثواب اسی کو ملے گا، سمجھانے والا اس سے محروم رہ جائے گا۔پھر جو شخص خود سوال پوچھنے آئے گا یہ ضروری نہیں کہ وہ نیک نیتی سے آئے بعض محض گستاخی کرنے اور مذاق کرنے کیلئے بھی آجاتے ہیں۔پس میں ٹریکٹ تقسیم کرنے اور جلسے منعقد کرنے کو پسند کرتا ہوں لیکن انفرادی تبلیغ پر زیادہ زور دینا چاہتا ہوں۔خود ایسے آدمیوں کو تلاش کرو جنہیں تم تبلیغ کر سکو جسے تم خود تبلیغ کرنے کیلئے منتخب کرو گے وہ یقیناً جلد اثر قبول کرے گا۔پس اس انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ کب کوئی آدمی ہمارے پاس چل کر آئے اور ہم اُسے تبلیغ کریں۔جماعت کے مختلف حصوں کو یکساں طور پر تبلیغ کرنی چاہیے۔فوج کا دایاں بایاں یا درمیانی حصہ آگے بڑھ آئے تو اسے فوج کا استحکام نہیں کہا جائے گا بلکہ خرابی سے تعبیر کیا جائے گا۔فوجی اصول یہ ہے کہ فوج کے تمام حصے یکساں طور پر آگے بڑھیں ورنہ شکست کا اندیشہ ہوتا ہے۔یہی حال تبلیغ کا ہے اگر کوئی گروہ تبلیغ سے خالی رہ جائے تو اس کے افراد دوسروں کا اثر قبول نہیں کرتے۔ہر طبقہ کے انسان کا اثر اس سے تعلق رکھنے والے قبول کرتے ہیں۔مولویوں کا گروہ ہے۔اگر ان میں تبلیغ کی جائے اور وہ اثر قبول کریں تو جو بھی ان سے ملنے والا ہو گا، وہ ان کی معرفت اس اثر کو قبول کرے گا۔اور جب متفقہ طور پر مولوی پر مولوی متاثر ہوتے جائیں گے تو ان سب کے ملنے والے ان کی متفقہ آواز سے بہت جلدی متاثر ہوں گے۔یہی حال باقی گروہوں کا ہے۔مثلاً ڈاکٹروں، وکلاء پروفیسروں اور پیشہ ور لوگوں کا اثر اپنے اپنے حلقہ میں ہو سکتا ہے۔پس تبلیغ ہر گروہ میں ہونی چاہیے۔اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر دس دن پندرہ دن کے بعد دوست دس ہیں آدمیوں کو اپنے ہاں چائے وغیرہ