خطبات محمود (جلد 15) — Page 28
خطبات محمود ۲۸ سال ۱۹۳۳ء بلائیں اور میزبان کی حیثیت سے ان سے تبادلہ خیالات کریں یا ان کے ہاں جاکر بار بار ان کو تبلیغ کریں۔میں دیکھتا ہوں کہ تبلیغ کے میدان میں لاہور کی جماعت بہت پیچھے ہے۔غالباً میاں فیملی اور ایک دو اور خاندانوں کے علاوہ یہاں کے باشندوں میں سے کوئی احمدی نہیں ہوا۔جو لوگ یہاں احمدی ہوئے بھی ہیں، ان میں سے کوئی انبالہ کا رہنے والا ہے کوئی جالندھر کا اور کوئی کسی اور جگہ کا۔گویا ایک طرح سے وہ یہاں مزدوری کیلئے آئے، جب انہیں کسی اور شہر میں مزدوری کیلئے جانا پڑا تو وہاں چلے گئے۔1910ء سے یہی کیفیت ہے۔ویسے بھی تو دوست دوسروں سے ملنے کیلئے جاتے ہیں۔اگر اس احساس کے ماتحت ان سے ملیں کہ تبلیغ کرنی ہے تو کیا ہی اچھا ہو۔دوسروں کو دعوت دینے سے میری یہ مراد نہیں کہ دوستوں پر یکدم بوجھ ڈال دیا جائے بلکہ کبھی کبھی اس طرح ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہیں۔کبھی انہیں ملاقات کیلئے قادیان لے آئیں یا جمعہ پر اُنہیں ساتھ لے آئیں۔اس طرح بہت اچھا اثر ہو سکتا ہے۔لاہور کی جماعت کو میں نے اس کے تبلیغی فرائض کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے آج پھر میں توجہ ولانے کے فرض سے سبکدوش ہوتا ہوں۔ہر جگہ کی جماعت کے بیدار ہونے کے خاص خاص مواقع ہوتے ہیں بہت ممکن ہے کہ لاہور کی جماعت کے بیدار ہونے کا بھی وقت آگیا ہو۔تبلیغ کیلئے لاہور کو بہترین موقع میسر ہے لیکن جس قسم کے سامان یہاں موجود ہیں، ان کے سویں بھی ابھی تک فائدہ نہیں اُٹھایا گیا۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ یہاں کے مقامی آدمیوں کو سلسلہ میں داخل کیا جائے۔مزدور کو تو جس وقت یہاں مزدوری نہ ملے گی چلا جائے گا۔اس طرح لاہور کی جماعت کو فروغ حاصل نہیں ہو سکتا۔جتنی تمام پنجاب میں تبلیغ ہوتی ہے اتنی صرف لاہور میں ہونی چاہیے اور یہاں کی جماعت بہت بڑی ہونی چاہیے لیکن یہ جبھی ہو سکتا ہے کہ یہاں کے تمام دوست اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں۔ہم تو مجبور ہیں ہم تو اُسی وقت تبلیغ کر سکتے ہیں جب کوئی خود چل کر ہمارے پاس آئے۔ایسا ہی قادیان والوں کا حال ہے۔ان کیلئے بھی تبلیغ کیلئے کوئی بڑی گنجائش نہیں لیکن بیرونی جماعتیں اور خاص کر لاہور کی جماعت کیلئے تبلیغ کا میدان بہت وسیع ہے۔لاہور کی جماعت کو تبلیغ کے متعلق ہر وقت مشورہ دینے کو تیار ہوں۔جس قسم کی مدد کی ضرورت ہو وہ بھی ضرور کی جائے گی۔اگر مبلغین درکار ہوں تو میں بھیج سکتا ہوں لیکن یہاں کے دوست خود بھی کچھ کام کر کے دکھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ میرا دوسرا وطن سیالکوٹ ہے، آپ اکثر سیالکوٹ جایا کرتے تھے۔حصہ