خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 22

خطبات محمود ۲۲ سال ۱۹۳۴ء میں تمہاری کیا پرواہ کرتا ہوں۔سوائے خاموش رہنے اور مسکرانے کے میں نے کچھ جواب نہ دیا۔ایک بچہ بھی اگر کہے کہ میں تمہیں تباہ کردوں گا تو ہم تو اسے بھی نہیں کہہ سکتے کہ تمہاری حیثیت کیا ہے جو تم ایسا کر سکو۔ہمیں کیا معلوم کہ وہ بچہ لمبی عمر پانے والا ہو اور ہم جلدی دنیا سے گزر جانے والے ہوں۔پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میں یوں کر دوں گا دُوں کر دوں گا وہ جھوٹ بولتا ہے کیونکہ اس قسم کے الفاظ کے دو ہی مفہوم ہوتے ہیں۔یعنی یا تو وہ عالم الغیب ہے اور جانتا ہے کہ فتح اُس کیلئے ہے اور یا خدائی طاقتیں اُس کے پاس ہیں اور وہ جسے چاہے ہلاک کر سکتا ہے اور یہ دونوں باتیں جھوٹ ہیں۔پس تم جھوٹ اور فریب سے خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔دنیاوی بادشاہ ان باتوں سے خوش ہوں تو ہوں خدا تعالی انہیں پسند نہیں کرتا۔غرض جب تک انکسار پیدا نہ ہو اور جب تک یہ حالت نہ ہو کہ ایک ذلیل سے ذلیل انسان بھی تمہیں کہے کہ میں تمہیں بتادوں گا مگر تمہارے منہ سے یہ نہ نکلے کہ کس طرح بتادو گے، تب تک نہ سمجھو کہ تمہارے نفس کا کیڑا مرگیا ہے۔پس دائمی اور حقیقی انکسار پیدا کرو اور اس قسم کے الفاظ کبھی منہ منہ سے مت نکالو ہم یوں کردیں گے۔ہاں اگر خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرتا ہے اور اُس کا وعدہ تمہارے ساتھ ہے تو پھر بیشک کہو۔جیسا کہ حضرت صحیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو ایک دفعہ ایک مقدمہ ہے کے دوران میں بتایا گیا کہ مجسٹریٹ پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ سزا ضرور دے۔ایک دوست بیان کرتے ہیں۔حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ السلام سے جب یہ بات بیان کی گئی تو اُس وقت آپ لیٹے ہوئے تھے۔سنتے ہی اُٹھ بیٹھے اور فرمایا۔خدا تعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے ہے۔غرض جب خدا تعالیٰ کہے کہ بولو اُس وقت بولنا چاہیے اور جب وہ نہ کہے تو خاموش رہنا چاہیئے۔رسول کریم " کا اس بارے میں جو نمونہ تھا اُس کا اِس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ اُحد کے موقع پر ایک غلطی کی وجہ سے جب صحابہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گئے اور صرف چند آدمی رسول کریم کے ساتھ رہ گئے تو ابوسفیان نے زور سے آواز دی کہ ہم نے محمد کو ماردیا حضرت عمر " بولنا چاہتے تھے مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا چُپ رہو اور اُسے کچھ جواب نہ دو۔پھر اُس نے کہا ہم نے ابوبکر کو بھی مار دیا۔آپ نے پھر صحابہ سے فرمایا کہ خاموش رہو اور کچھ جواب نہ دو۔پھر اُس نے کہا ہم نے عمر کو بھی مار دیا۔آپ نے پھر نصیحت کی کہ چُپ رہو