خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 23

خطبات محمود ۲۳ سال ۱۹۳۴ء کیونکہ اگر جواب دیا جاتا تو خطرہ کی حالت تھی۔دشمن تین ہزار کی تعداد میں تھا اور مسلمان پندرہ میں تھے۔اس لئے آپ صحابہ کو جواب دینے سے منع فرماتے رہے۔اس پر ابوسفیان نے متکبرانہ لہجہ میں کہا۔اُعْلُ هُبَل اُعْلُ هُبَل - یعنی ہم نے سب کو مار دیا۔حُبل ثبت کی بڑائی ہو۔تب رسول کریم نے جو پہلے صحابہ کو جواب دینے سے منع فرماتے تھے صحابہ سے فرمایا جواب کیوں نہیں دیتے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں۔فرمایا کہو اللهُ أَعْلَی وَاَجَلٌ - الله أعلى وَاَجَلٌ ہے۔یعنی اللہ ہی سب سے بڑا اور بلند شان رکھنے والا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں نفس کا سوال تھا وہاں تو رسول کریم نے فرمایا کہ چُپ رہو کیوں دشمن کو بتایا جائے کہ ہم موجود ہیں۔مگر جب انہوں نے اللہ تعالٰی کی ذات پر حملہ کیا تو آپ اسے برداشت نہ کر سکے۔یہی حالت مومن کی ہونی چاہیئے۔اپنے نفس کے معاملہ میں اس کی نظر ہمیشہ نیچی رہنی چاہیئے۔اور ہمیشہ اللہ تعالی کی غناء کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ معلوم نہیں اللہ کے علم میں کیا ہے۔یہ چیز ہے اسے اپنے اندر پیدا کرو۔اور یہی چیز ہے جس کے ساتھ دعائیں سنی جاتی ہیں۔ورنہ تسجد میں اپنی مصیبت یاد کر کے رولینا کوئی بڑی بات نہیں۔بڑے بڑے دہریہ بھی جب اُن کی بیوی یا بچہ فوت ہو جاتا ہے اتنا روتے ہیں کہ شاید مومن اتنا تہجد میں نہ روتا ہو۔رونا در حقیقت رقتِ قلب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔بعض دفعہ بیوی بچے سامنے نہیں ہوتے، انسان محض ان کا تصور کرکے روپڑتا ہے یا کہیں جنگل میں جارہا ہو اور اسے اپنا کوئی عزیز یاد آجائے تو وہ رو پڑتا ہے۔پس خالی رونا کوئی چیز نہیں جب تک اس کا موجب نیک نہ ہو۔اگر رونے کا موجب نیک ہو تو اللہ نہیں چاہتا کہ اپنے بندے کا ایک آنسو بھی ضائع ہونے دے اور اگر موجب نیک نہ ہو تو فرشتے کہتے ہیں اور رو اور رو یہاں تک کہ وہ مرجاتا ہے کیونکہ جب کوئی شخص بہت روتا ہے تو اُس کا خون گاڑھا ہو جاتا اور رطوبت خشک ہو جاتی ہے۔اپنی ایسی حالت پیدا کرو تو تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔ورنہ منہ کے خالی الفاظ اور آنکھوں کے آنسو کوئی اثر نہیں رکھتے۔شروع میں تو دو تین چکر مجھے ایسے آئے تھے کہ میں خیال کرتا تھا خطبہ میں زیادہ نہیں کہہ سکوں گا مگر بعد میں حالت بدل گئی۔جو نصیحت کرنے کے ارادہ سے گھر سے آیا تھا وہ آپ لوگوں کو کردی ہے۔اب رمضان کے تھوڑے دن رہ گئے ہیں ان سے فائدہ اُٹھاؤ۔اور دائمی انکسار پیدا کرو کہ اس کے ساتھ سوکھی آنکھیں بھی اللہ تعالی کے فضلوں کو جذب کرلیتی ہیں اور اس کے بغیر تر آنکھیں بھی کسی کام