خطبات محمود (جلد 15) — Page 271
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کر سکتے کہ سال بھر روزانہ کچھ عرصہ جاگ کر دشمن کو ناکام بنانے کی کوشش کریں مگر یہ بھی دراصل بُزدلی ہے کیونکہ ڈرپوک آدمی زیادہ دیر تک تکلیف برداشت نہیں کر سکتا۔بہادری یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہزار سال کیلئے چاہتا ہے کہ ہم مخالفین کی طرف سے بیدار رہیں تو ہم ایسا ہی کریں۔ہم نے تو کام کرنا ہے جو کام اللہ تعالی چاہے لے لے۔اگر وہ ہمارے لئے بیٹھنا مقرر کر دے تو چاہیے کہ بیٹھے رہیں اور اگر چلنا مقرر کر دے تو چاہیے کہ چلتے رہیں۔اُحد کی جنگ میں رسول کریم ﷺ نے چند صحابہ کو ایک درہ پر کھڑا کیا اور فرمایا کہ چاہے فتح ہو یا شکست اس جگہ کو ہرگز نہ چھوڑنا - آخر اللہ تعالی نے دشمنوں کو شکست دی اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اس وقت ان لوگوں نے جو درہ پر مقرر تھے، اپنے افسر سے کہا کہ ہم تو جہاد سے محروم ہی رہ گئے اب تو فتح ہو گئی چلو ہم بھی شامل ہو جائیں۔افسر نے بہتیرا سمجھایا کہ رسول کریم ﷺ نے فتح کی صورت میں بھی یہاں سے ملنے کی ممانعت کی تھی۔مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ کا مطلب تو صرف زور دینا تھا یہ غلطی ہوگی کہ اب بھی ہم ہیں کھڑے رہیں۔افسر نے تو جانے سے انکار کر دیا مگر وہ بھاگ گئے۔حضرت خالد بن ولید نے جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، درّہ کو خالی دیکھ لیا اور چونکہ ذہن تیز تھا اس لئے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور اپنی فوج کو جمع کرکے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کردیا۔جو افسر وہاں کھڑے رہے تھے وہ بیچارے کیا کر سکتے تھے آنِ واحد میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہے اور نتیجہ ہوا کہ مسلمان جو سمجھ رہے تھے کہ ہماری فتح ہو چکی ہے، انہیں اس وقت ہوش آیا جب واپس لوٹنے کی بھی کوئی راہ نہ رہی۔سب لشکر پراگندہ ہو گیا اور رسول کریم ﷺ چند آدمیوں سمیت دشمن کے نرغہ میں آگئے۔یہ اتنا بڑا فتنہ کس لئے پیدا ہوا۔صرف اسی وجہ سے کہ ان لوگوں نے سمجھ لیا تھا کہ کھڑا رہنے کا نام جہاد نہیں حالانکہ اگر کسی کو دینی مصلحت سے بظاہر ایک آرام کی حالت میں کھڑا کر دیا جائے تو اس کیلئے یہ بھی جہاد ہی ہے۔جہاد یہی ہے کہ دین کیلئے جو حکم ہو، اس پر عمل کیا جائے بلکہ ایک طرح تلوار کے ساتھ جہاد کرنے والے سے ایسے انسان کا درجہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اسے تو اللہ تعالی کی راہ میں جان دینے کی لذت حاصل ہو رہی ہوتی ہے اور یہ گڑھ رہا ہوتا ہے کہ مجھے جو یہاں کھڑا کر دیا گیا ہے، شاید یہ سزا ہی ہو اس لئے اسے دُہرا ثواب ہوتا ہے۔بہر حال یہ ثابت ہے کہ ان لوگوں کو جو کسی کام پر مقرر کئے جائیں ویسا ہی جہاد کا ثواب ہوتا ہے جیسا کہ تلوار سے جہاد کرنے والوں کو۔جہاد کیلئے وره