خطبات محمود (جلد 15) — Page 270
خطبات محمود ۲۷۰ سال ۱۹۳۴ء نے ان کا علم عطا کیا ہے اور وہ بھی ظاہر نہیں کرتے جب تک کہ خدا تعالیٰ ان کے اظہار کا موقع نہ لے آئے۔ان مشکلات کے مقابلہ میں یہ فتنہ تو ایسا ہی ہے جیسے راستہ چلتے ہوئے کسی کے پاؤں کے آگے کنکر آجائے اور وہ اسے پاؤں کی ٹھوکر سے پرے پھینک دے۔ہم نے تو اس آسمان کو بدل کر نیا آسمان اور اس زمین کو بدل کر نئی زمین پیدا کرنی ہے، ہم نے پہاڑوں کو اڑانا اور سمندروں کو خشک کرنا ہے، نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رویاء کو پورا کرنا ہے، پس یہ چیزیں ہمارے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔اللہ تعالی کی یہ بھی سنت ہے کہ جب کوئی برگزیدہ قوم مست اور غافل ہونے لگے تو اسے آزمائش کے طور پر کسی ابتلاء میں ڈال دیتا ہے۔پس ہمیں یہ تو ڈر نہیں کہ دشمن ہم پر غالب آجائے گا ہمارے لئے جو خطرہ ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم خود اپنی جانوں یا آئندہ نسلوں کیلئے کسی فتنہ کا موجب نہ ہو جائیں یا ہماری مقدر فتح کچھ عرصہ پیچھے نہ جاپڑے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ان چیزوں کو کھاو کی طرح سمجھو۔اس فتنہ کی اتنی ہستی نہیں، اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو غیر مبائعین کا فتنہ تھا۔یہ بیچارے تو زیادہ سے زیادہ سال چھ ماہ تک شور کرسکتے ہیں، ان لوگوں میں سے استقلال اُڑ چکا ہے، یہ کسی کام کیلئے اٹھیں چند ماہ تک تو ایسا شور رہے گا کہ یوں معلوم ہوگا کہ اب دنیا ان کی یلغار سے نہیں بچے گی لیکن بعد میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک گزر جاؤ کوئی بولتا ہوا بھی سنائی نہ دے گا۔یہ لوگ تو ان کے مقابلہ میں بھی جنہیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل نہیں، صرف بول کر اور کچھ عرصہ شوروشر کر کے خاموش ہو جاتے ہیں، وہ ہمارا کیا نقصان کرسکتے ہیں۔بیشک چونکہ ہوشیار اور بیدار رہنا مومن کا فرض ہے اس لئے ہمیں ایسا ہی رہنا چاہیے وگرنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعمال کے نتیجہ کے طور پر تو یہی بات ہے کہ ہمارے مخالف مولوی لمبے عرصہ تک کوئی کام نہیں کرسکتے۔کچھ عرصہ تک شور و شر کرتے ہیں اور جب کچھ کام نہ ہوتا دیکھ کر چندہ دینا بند کر دیتے ہیں تو یہ کوئی اور راہ نکال لیتے ہیں پھر یہ لوگ خود ہی تھوڑے لوگ عرصه کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔پس اپنے مقدر انجام اور ان کے حالات کے لحاظ ہمیں کسی قسم کی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں ہاں بیداری ضروری ہے مگر جو لوگ مضطرب ہوں وہ بیدار نہیں ہو سکتے۔اور جو بیدار نہیں وہی مضطرب ہوتے ہیں۔ایسے لوگ دشمن کی شرارت دیکھ کر چاہتے ہیں کہ منٹ دو منٹ میں فیصلہ کردیں، ماردیں یا مر جائیں کیونکہ وہ یہ نہیں