خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 209

خطبات محمود ۲۰۹ سال منافقت کا میرے سامنے ثبوت مہیا کرے تاکہ میں ان اختیارات کو استعمال کروں جو خداتعالی نے مجھے دیئے ہیں۔بعض دفعہ بغیر کسی عدالتی ثبوت کے یونہی میرے پاس ایک بات بیان کر دی جاتی ہے۔میں سمجھ رہا ہوتا ہوں کہ شکایت کرنے والا سچ کہہ رہا ہے مگر جب میں اسے کہتا ہوں کہ اس کا ثبوت مہیا کرو تو وہ شکوہ کر کے چلا جاتا ہے کہ میری بات پر توجہ نہیں کی جاتی حالانکہ جب تک شرعی اور عدالتی طور پر میرے پاس ثبوت مہیا نہ کیا جائے، میں سزا دینے کا مجاز نہیں چاہے مجھے یقین ہو کہ فلاں آدمی میرے اور جماعت کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے رہتے ہیں۔باقی اگر ذرا بھی کوشش کی جائے تو اس قسم کے ثبوت مہیا کرنے مشکل نہیں ہوتے۔منافق کچھ دلیر ہوتا ہے اور وہ ایک ہی بات بعض دفعہ کئی مجالس میں کر دیتا ہے۔اس لئے گواہ آسانی سے پیدا کئے جاسکتے ہیں۔مگر لوگ کوشش نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ جس کی ہم شکایت پہنچائیں اسے فوراً سزا دے دی جائے حالانکہ یہ مؤمنانہ مشورہ نہیں۔پھر ہماری جماعت کے آدمی باہر بھی ہیں، ان سے بھی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے احراریوں کے ایک لیڈر نے قادیان کے ایک شخص کے متعلق بتایا کہ اس کے ذریعہ قادیان کی خبریں انہیں ملتی رہتی ہیں۔اس شخص کے متعلق اپنی جماعت کی طرف سے اگر کوئی اطلاع مجھے پہنچتی ہے تو وہ خبر احاد ہوتی ہے جس پر گرفت نہیں کی جاسکتی۔سالہا سال میں نے اس شخص کے متعلق عفو سے کام لیا ہے مگر اب ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کو الگ کیا جائے اس لئے میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ منافقوں کو ظاہر کرے۔ہمیں غیروں سے خطرہ نہیں کیونکہ غیروں کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ان سے خود ہماری حفاظت فرمائے گا۔لیکن اگر ہمارے اندر عیب پیدا ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم آپ اپنے عہد کو توڑ رہے ہیں اس صورت میں ہم خدا تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب تک بیرونی دشمن کے حملہ کا خوف ہے ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں بلکہ جماعت اس مخالفت کی وجہ سے ترقی کرے گی لیکن اگر ہمارے اندر خرابی پیدا ہو گئی تو ہم اپنے ہاتھ سے اللہ تعالی کے ملوں کے دروازہ کو بند کرنے والے ہوں گے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں یقینی طور پر چند منافق موجود ہیں اور مجھے ان کا پتہ ہے مگر تم انہیں ظاہر کرو یعنی ان کے متعلق ثبوت قائم کرو۔میرا یہ طریق نہیں کہ میں ان کی طرف اشارہ کروں کیونکہ رسول کریم اسے ایک دفعہ کسی شخص نے کہا