خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 145

خطبات محمود ۱۴۵ سال ۱۹۳۴ء نازل کی۔اس نے اپنی نعمت ہمارے گھروں میں بھیجی۔ہم اگر پھر بھی توجہ نہ کریں تو ہماری نجات کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔صداقت اور حق کی مخالفت کوئی معمولی بات نہیں۔اور اس سے کسی کو روک لینا بہت بڑے اجر کا باعث ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اے علی! اگر ایک طرف ایک وادی بھیڑوں بکریوں سے بھری ہوئی ہو یعنی ایک پہاڑ سے لے کر دوسرے تک تمام جگہ بھیڑوں اور بکریوں سے بھری ہوئی ہو گویا کروڑوں کا مال پڑا ہو اور ایک دوسری طرف ایک ادنیٰ انسان کو ہدایت ہو جائے تو یہ اُس سے بہت قیمتی ہوگی ہے۔گویا ایک شخص کی ہدایت کو کروڑ ہا روپیہ کے صدقہ سے بھی زیادہ بتایا ہے پھر بھی جو لوگ توجہ نہیں کرتے، اس کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں یا تو یہ کہ انہوں نے سلسلہ کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں اور یا پھر یہ کہ انہیں سُستی کی عادت ہے۔لوگ کسی سے کوئی خاص خبر سنتے ہیں تو کس طرح دیوانہ وار سب کو سناتے پھرتے ہیں۔اخبارات میں کوئی نئی خبر پڑھتے ہیں تو کس طرح سب کو سناتے ہیں۔فرض کرو امریکہ کا کوئی پریذیڈنٹ مارا جائے یا کوئی نیا آدمی پریذیڈنٹ ہو جائے۔یا آئرلینڈ میں کوئی تازہ واقعہ ہو جائے تو کس طرح لوگ ایک دوسرے کو سناتے ہیں بازاروں میں، دکانوں پر دوستوں کے گھروں میں دفتروں میں یہی باتیں کرتے ہیں کہ یہ ہو گیا وہ ہو گیا حالانکہ براہِ راست ان کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مگر اس خبر کو سن کر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک ہادی بھیجا جسے قبول کرنے سے ساری دنیا کی نجات وابستہ ہے، اگر کوئی اثر نہ ہو اور اسے دوسروں کو سنانے میں سُستی کی جائے تو کس قدر غفلت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگوں کو نمائش کی عادت ہوتی ہے۔ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی۔وہ جہاں کہیں بیٹھے اس کی نمائش کرے مگر یا تو یہ کہ سوسائٹی میں وہ کوئی اثر نہ رکھتی تھی یا یہ کہ وہ انگوٹھی ہی کوئی معمولی چیز تھی، کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔اس عورت کو نمائش کی اس قدر خواہش تھی کہ اس نے اپنے گھر کو آگ لگادی۔عورتیں جمع ہوئیں اور پوچھنے لگیں کہ بہن کچھ بچا بھی۔وہ ہر ایک سے یہی کہتی کہ بس اس انگوٹھی کے سوا کچھ نہیں بچا۔مگر پھر بھی کسی نے توجہ نہ کی۔آخر ایک عورت نے سوال کیا کہ بہن یہ انگوٹھی تم نے کب بنوائی؟ اس پر اس نے سر پیٹ کر کہا کہ اگر یہ بات پہلے پوچھ لی جاتی تو میرا گھر بار کیوں جلتا۔جب اتنی چھوٹی سی چیز کی نمائش کے لئے لوگ اس قدر قربانی کرتے ہیں مگر ہم اتنی بڑی اہم بات کو سن کر توجہ نہ کریں تو کس قدر ہستی ہے۔اس سستی