خطبات محمود (جلد 15) — Page 144
خطبات محمود سال ۲ ۱۹۳۴ء سیکرٹری صاحب نے اپنے جوش کی وجہ سے مایوسی کا پہلو لیا ہے یا فی الواقعہ یہ نقص موجود ہے مگر اسے صحیح فرض کر کے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جب کام کی ابتداء ایسی نسبت ہو تو انتہاء کیا ہوگی۔آپ لوگوں کیلئے یہ ایک بڑا اچھا موقع تھا۔خلیفہ وقت آپ میں آیا اور اللہ تعالٰی نے اسے آپ میں متواتر خطبات پڑھنے کی توفیق دی اس کی موجودگی میں آپ کے نمائندوں نے جمع ہو کر ایک سکیم تجویز کی جسے اُس نے منظور کیا لیکن پھر بھی آپ لوگوں نے فائدہ نہ اُٹھایا۔یہ تو گھروں میں پہنچ کر خدمت کا موقع دینے والی بات تھی اور منہ میں لقمہ ڈالنے والی بات تھی مگر پھر بھی اگر کوئی اپنا منہ بند کرلے تو خدا کی نظروں میں بھلا اس کی کیا قدر ہو سکتی ہے۔دینی امور میں جس قسم کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ تو بہت بڑی چیز ہے یہ تو ایسی نستی ہے جس کی امید دنیا داروں سے بھی نہیں کی جاسکتی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہاں تک اذان کی آواز پہنچے سب کو نماز کیلئے مسجد میں آنا چاہیے سوائے کسی ایسی معذوری کے جس میں آنا بالکل ناممکن ہو۔ایک نابینا شخص آپ کے پاس آیا اور کہا کہ گلیوں میں پتھر وغیرہ پڑے ہوتے ہیں، رستہ خراب ہوتا ہے، پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں اور خون نکل آتا ، اگر اجازت ہو تو میں گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کروں۔آپ نے اسے اجازت دے دی۔مگر جب وہ جانے لگا تو پھر بلایا اور فرمایا تمہارے گھر میں اذان کی آواز پہنچتی ہے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں پہنچتی ہے۔آپ نے فرمایا تو میں اپنی اجازت واپس لیتا ہوں۔تمہیں بہر حال مسجد میں پہنچنا چاہیے ہے۔پس جب اذان کیلئے جو تبلیغ کی نمائندہ اور اختصاری تبلیغ ہے، یہ حکم ہے تو تفصیلی تبلیغ جس جگہ ہو رہی ہو اور ایک شخص پاس ہی گھر میں بیٹھا رہے تو وہ انسان خدا کی نظر میں کتنا گرا ہوا ہو گا۔خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کی ترقی کے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سے فائدہ اُٹھاؤ۔اللہ تعالیٰ جبر سے کام نہیں لیا کرتا وہ نعمت پیش کر دیتا ہے، آگے اس سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا بندہ کے اختیار میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ صرف سامان پیدا کر دیتا ہے۔دنیا میں سوائے تمہارے اور کوئی قوم ایسی نہیں جو تبلیغ خدا کیلئے کرتی ہو۔عیسائی اور ہندو بے شک تبلیغی کوششیں کرتے ہیں مگر دنیوی ترقی کیلئے مسلمان کرتے ہی نہیں۔صرف احمدی ہی ہیں جو اعلائے کلمۃ اللہ کیلئے تبلیغ کرتے ہیں اور یہ موقع بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ہمیں نصیب ہوا وگرنہ پہلے ہم بھی گھروں میں غافل سو رہے تھے۔اللہ تعالٰی نے اپنا فضل کیا اور رحمت